بیسلان ہلاکتیں : ’حکام بھی ذمہ دار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس میں کوہ قاف کے علاقے شمالی اوسیٹیا میں گزشتہ برس ایک سکول میں بچوں کو یرغمال بنائے جانے اور تین سو اکتیس افراد کی ہلاکت کے بارے میں ہونے والی تحقیقات میں سیکیورٹی فورس کو بھی جزوی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ مسلح چیچن باغیوں نے شمالی اوسیٹیا کے علاقے بیسلان میں سکول پر قبضہ کر کے سکول کے عملے اور طالب علموں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس واقعے میں بچوں میں سمیت تین سو اکتیس لوگ مارے گئے تھے۔ شمالی اوسیٹیا کے پارلیمانی کمیشن نے کہا کہ سکول پر قبضہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی وجہ سےہوا‘۔ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے بہت سے بچوں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ سکول کو حملہ آوروں کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے کی جانے والی کارروائی کا غیر منظم ہونا ہلاکتوں کا باعث بنا۔ اس کارروائی کے دوران سکول کو آگ لگ گئی تھی۔ ماسکو میں بی بی سی کی نامہ نگار ایما سمپسن کا کہنا ہے کہ ایک سال کے انتظار بعد جاری ہونے والی رپورٹ نے جوابات سے زیادہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول پر چھاپے کے دوران گرینیڈ اور آگ پھینکے والی مشینیں اور ٹینک استعمال کیے گئے تھے۔ لیکن تحقیقاتی کمیشن کو یہ واضح نہیں کہ آیا سکول سے قبضے ختم کروانے والی کارروائی کے وقت بچے سکول میں موجود تھے یا نہیں۔ روسی حکام کئی ماہ تک مسلسل اس طرح کے اسلحے کے استعمال سے انکار کرتے رہے ہیں۔ تاہم روس کے پراسیکیوٹر جنرل نے اس سال کے آغاز پر اعتراف کیا کہ گرینیڈ اور آگ پھینکنے والی مشینیں استعمال کی گئی تھیں لیکن اس وقت بچے سکول میں موجود نہیں تھے۔ بسلان کے شہریوں کا کہنا کہ سیکیورٹی دستوں نے بھاری مشینری استعمال کی جس سے اس جِم میں آگ لگ گئی جہاں بچے جمع تھے۔ پارلیمانی کمیشن نے رپورٹ میں کہا کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ دھماکہ کی وجہ کیا تھی۔ لیکن انہوں نہ یہ ضرور کہا کہ سکول پر قبضہ سیکیورٹی دستوں کی ناکامی تھی۔ کمیشن نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ حملہ آوروں نے باآسانی بغیر کسی کی نظر میں آئے بیسلان کی شاہراہوں کو استعمال کیا۔ وفاقی حکومت بھی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں روس: مرنے والوں کی تعداد 330 ہوگئی04 September, 2004 | صفحۂ اول سکول کے ہلاک شدگان کی تدفین05 September, 2004 | آس پاس دکھ کی تصویر، تباہی کا منظر04 September, 2004 | آس پاس بیسلان کا اغوائی ٹی وی سکرین پر06 September, 2004 | آس پاس عام لوگوں نے خون کی ہولی کھیلی؟07 September, 2004 | آس پاس موت کے قریب موت سے دور10 September, 2004 | آس پاس 50 بچوں کی حالت اب بھی سنگین 14 September, 2004 | آس پاس چیچن رہنما نے ذمہ داری قبول کی17 September, 2004 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||