بیسلان کا اغوائی ٹی وی سکرین پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوسٹیا کے علاقے بسلان کے ایک سکول کے محاصرے میں تین سو تیس سے زیادہ بچوں اور بڑوں کی ہلاکت کا سوگ پیر سے روس بھر میں منایا جا رہا ہے۔ یہ سوگ دو دن جاری رہے گا۔پیر کو تمام پرچم جھکے ہوئے تھے اور تمام تفریحی ٹی وی پروگرام منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ جب کہ بسلان میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین جاری ہے اور پورا شہر ایک دکھ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس دوران روسی سرکاری ٹی وی نے ایک اغوائی کو دکھایا گیا ہے اسے دو نقاب پوش کمانڈو اسکرین پر لاتے ہوئے دکھائی دیے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی اغوائی گرفتار کیے ہیں اور ٹی وی پر دکھایا جانے والا اغوائی ان میں سے ایک ہے۔ اس مبینہ اغوائی کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے اور وہ گڑگڑا رہا تھا کہ اس نے بسلان کے سکول میں کسی بچے کو گولی نہیں ماری۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین اغوائیوں کو پکڑا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||