BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 September, 2004, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بم چھت سے لٹک رہے تھے‘
زخمی بچے
’بچوں کا پیاس اور گرمی کے مارے برا حال تھا‘
روسی سکول میں کارروائی کے دوران چیچن باغیوں نے بچوں سمیت کئی سو افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس کارروائی کے دوران کئی بچے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ جو زندہ بچے انہوں نے باہر آ کر جو روداد بیان کی ہے وہ آپکے لئے پیش ہے۔

اغواکاروں کے چنگل سے چھوٹنے کے بعد ایک ٹیچر نے بتایا کے یرغمال بنائے گئے لوگوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے قریب ہوگی۔

جمعہ کے روز کانپتے ہوئے باہر نکلنے والے ایک بچے نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اتنی بری طرح ڈرا ہوا تھا کہ اپنے ماں باپ تک کو پہچان نہیں پایا۔

اس حادثہ میں زندہ بچنے والے بچوں میں ایک لڑکی ڈائنا بھی تھی جو اپنے زندہ رہنے پر مسرت کا اظہار کررہی تھی۔ اس نے بتایا ’یہ سب کچھ اچانک ہوگیا۔ ہم سے کہا گیا کہ بات چیت ہوگی اور یہ کہ ہم نیچے زمین پر لیٹ جائیں۔ اسی دوران برآمدے میں ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ پھر اچانک ایک دوسرا دھماکہ ہوا بالکل ہماری چھت کے اوپر اور دیکھتے ہی دیکھتے چھت نیچے گر گئی۔ لوگ چیخنے چلانے لگے ہر طرف دہشت کا ماحول تھا۔

’میں نے اوپر دیکھا پھر نیچے دیکھا چند بچے زخمی حالت میں بغیر حرکت کئے پڑے تھے۔ ٹوٹے ہوئے ہاتھ پیر بکھرے پڑے تھے۔ بم چھت سے لٹ رہے تھے اور آہستہ آہستہ یہ ایک کے بعد ایک پھٹ رہے تھے۔ ہر کوئی پچھلے دروازہ کی طرف یا کھڑکیوں کی جانب بھاگ رہا تھا میں اور میری بہن ایلینا ایک کھڑکی کے نزدیک ہی تھے اس لیے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے‘۔

یرغمال بنائی جانے والی ایک اور لڑکی جو زندہ بچ پائی تھی کہنے لگی ’میں ملبے کے اندر سے باہر آئی۔ میرا کان، ناک اور آنکھ سبھی ریت میں لدے تھے۔ میں کچھ بھی دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ پھر ہم کو کھانے کے کمرے میں لے جایا گیا۔ پھر ہم کو پانی پلایا گیا اور اسی دوران دھماکے شروع ہوگئے۔ تبھی ہم کھڑکیوں سے باہر کودے اور پھر فوری ہسپتال لے جائے گئے‘۔

بم دھماکے کے بعد زخمی ہوئے ایک بچے نے ایک روسی ٹی وی چینل کو بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے پھیلی افراتفری نے انہیں وہاں سے بھاگ نکلنے کا موقع دیا۔

ایک بچے نے دھماکے کے بارے میں بتایا ’دھماکہ بہت بڑا تھا۔ ہم ایک کرسی کے پیچھے چھپ گئے تھے۔ بہت دیر تک ہم ڈر کے مارے زمین پر لیٹ گئے تھے‘۔

دھماکے کے بعد نکل بھاگنے میں کامیاب رہے ایک بچے نے بتایا کہ جن کو راستہ نہیں ملا وہ کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر بھاگ نکلے۔ انہوں نے کہا ’ہماری قسمت اچھی تھی کہ سپورٹس ہال میں کھڑکیاں پلاسٹک کی تھیں۔ ورنہ نکلتے وقت ہمیں مزید چوٹ لگ سکتی تھی‘۔

بچ نکلنے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ کس قدر بھگدڑ کا ماحول تھا۔ ’لوگ ہر طرف بھاگ رہے تھے میں ادھر بھاگا جس طرف زیادہ لوگ بھاگ رہے تھے‘۔

سائنس پڑھانے والی ایک ٹیچر ریٹا گادزوونا نے بتایا کہ انہیں جمعرات ہی کو انکی تین سالہ بچی کے ساتھ جانے دے دیا گیا مگر انکی دس اور بارہ سالہ دو اور بیٹیاں یرغمال بنی رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اغوا کاروں نے منٹوں میں ہی
قبضہ کرلیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اغواکاروں نے سبھی یرغمالیوں کو کثرت والے ایک ہال میں دھکیل کر جمع کر لیا تھا اور باسکٹ بال کے دو باسکٹوں میں دو بم لگا دیے۔ ’اگرچہ انہوں نے کسی کے ساتھ کوئی برا برتاؤ نہیں کیا۔ لیکن وہ ہمیں ڈرانے کے لیے ہوا میں گولیاں چلاتے رہے۔ بچوں کے رونے پر اغوا کار بری طرح جھلا اٹھتے تھے‘۔

زلینا زاندرووا نام کی ایک یرغمال کا کہنا ہے کہ ’پہلے ہی دن اغواکاروں میں سے دو خواتین نے ایک گلی میں جا کر خود کو بم سے اڑا لیا مگر تب بھی چند یرغمالی مارے گئے۔ تب انہوں نے پکار کر کہا کہ انکی بہنیں شہید ہوگئیں‘۔

زلینا نے کہا کہ مرد اغواکاروں نے پہلے ہی دن 20 یرغمالیوں کو مار دیا تھا۔ ’انہوں نے ان کو مارا جو یا تو احتجاج کر رہے تھے یا پھر زخمی تھے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد