مسخادوف ہلاک کر دیے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے باغی چیچن رہنما اسلان مشخادوف کو ہلاک کر دیا ہے۔ برطانیہ اور ڈنمارک میں چیچن باغیوں کے نمائندوں نے بھی اس ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ فوج کے ترجمان جنرل اِلیا شبالکِن نے بتایا ہے کہ باغی رہنما کو علیحدہ ہو جانے والی روسی جمہوریہ چیچنیا میں ایک خصوصی کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ تاہم چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی میں کیے گئے اس فوجی آپریشن کی زیادہ تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ اس سے قبل روسی ٹی وی نے 53 سالہ اسلان مسخادوف کی خون میں لت پت لاش کی تصاویر دکھائی تھیں۔ لندن میں مشخادوف کے نمائندے احمد زکایوف نے کہا ہے کہ ان کے رہنما کی ہلاکت کے باوجود چیچنیا میں مزاحمت جاری رہے گی۔ اسلان مسخادوف کو چیچنیا کا اعتدال پسند کمانڈر تصور کیا جاتا تھا۔ اسلان مشخادوف کو جنوری سنہ انیس سو ستانوے میں چیچنیا کا صدر منتخب کیا گیا تھا لیکن انہیں دو برس بعد اس وقت برطرف کر دیا گیا جب روس نے حصول آزادی کی ایک مہم کو کچلنے کے لیے فوج بھیج دی تھی۔ روسی فوج اور چیچنیا کے علحیدگی پسندوں کے درمیان دس سال سے جاری رہنے والی جھڑپوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری تھے۔ فوج کے ترجمان جنرل اِلیا شبالکِن کے حوالے سے دیگر روسی خبر رساں ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ مشخادوف ایک گاؤں کی عمارت میں مورچے میں چھپے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||