 | | | افغانستان میں کامیابی عراق میں کامیابی سے کہیں زیادہ کٹھن ثابت ہو سکتی ہے |
افعان صدر حامد کرزئی نے بیرون ملک رہنے والے غیر القاعدہ طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ وطن واپس آ جائیں اور جاری مصالحتی عمل کا حصہ بنیں۔ درین اثنا امریکہ کے جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس نے افغانستان میں اتحادی افواج میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ بھی افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھانے پر غور کریں۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ مندوب رچرڈ ہولبروک نے کہا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی اتنا پیچیدہ مسئلہ نہیں دیکھا جس کا اتحادی افواج کو افغانستان میں سامنا ہے۔ میونخ میں جاری سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ’ہم اُن تمام طالبان کو وطن واپسی کی دعوت دیتے ہیں جن کا تعلق القاعدہ یا کسی اور دہشت گرد تنظیم سے نہیں ہے، جو وطن واپس آنا چاہتے ہیں اور افغانستان میں امن چاہتے ہوئے ملک کے آئین کے تحت زندگی گزارنا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری بین الاقوامی برادری سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس معاملے میں ہماری مدد کریں‘۔ افغانستان میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ افغان صدر نے غیر القاعدہ اور دہشت گردی سے تعلق نہ رکھنے والے طالبان کو مصالحتی عمل کا حصہ بننے کے لیے کہا ہو۔
 | | | افغانستان میں فوجی اور سولین کوششیں بڑھانے کی ضرورت ہے |
حامد کرزئی نے اپنی اپیل میں طالبان سے کہا ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے ملک میں واپس آ جائیں اور بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغان صدر کی پیشکش آئندہ انتخابات کے لیے ان کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف جنرل پیٹرئیس نے افغانستان میں فوجی اور سولین کوششیں بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس ہی سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے نئے مندوب رچرڈ ہولبروک نے کہا ہے کہ افغانستان میں کامیابی عراق میں کامیابی سے کہیں زیادہ کٹھن ثابت ہو سکتی ہے۔ |