کرزئی کے بھائی پر سمگلنگ کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی نے امریکی حکام کی جانب سے ان پر مبینہ طور پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر سنیچر کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکی حکام نے احمد ولی کرزئی کے ممکنہ طور پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے خدشات ظاہر کیے تھے۔ حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ ہیں اور نیویارک ٹائمز کے مطابق انہوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں سیاسی دشمنی کی بنیاد پرگھڑے جانے والے الزامات قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’میں منشیات کا کاروبار نہیں کرتا۔ میں نے نہ کبھی یہ کام کیا اور نہ کروں گا۔ میں گھناؤنی سیاست کا شکار ہوا ہوں‘۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی سفیر، سی آئی اے کے سیشن چیف اور افغانستان میں موجود برطانوی خفیہ ادارے کے افسران نے احمد کرزئی کے خلاف الزامات پر افغان صدر سے بھی بات کی تھی۔ تاہم افغان صدر ان الزامات کو’قابلِ قبول‘ نہ گردانتے ہوئے اپنے بھائی کو افغانستان سے بیدخل کرنے سے گریزاں ہیں اور اخبار کے مطابق حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیا گیا ہے جس سے احمد کرزئی پر عائد الزامات ثابت ہو سکیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اس سلسلے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ’ ہم نے سوچا تھا کہ ہمارے خدشات انہیں(احمد کرزئی) وہاں سے نکالنے کے لیے کافی ہوں گے۔ تاہم ہمارے پاس ایسا کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں جس کی مدد سے انہیں مجرم ثابت کیا جا سکے اور یہی وجہ ہے کہ صدر کرزئی کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ ثبوت کہاں ہیں‘۔
اخباری رپورٹ کے مطابق اگرچہ احمد کرزئی کے خلاف کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ہے تاہم بالواسطہ طور پر ایسے بہت سے ثبوت موجود ہیں جن کے تحت افغان صدر کے بھائی پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان بالواسطہ ثبوت کا ذکر کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سنہ 2004 میں جب افغان سکیورٹی افواج نے قندھار کے نواح میں ایک ٹریکٹر ٹرالی سے بڑی مقدار میں ہیروئن برآمد کی تو احمد کرزئی نے مقامی افغان کمانڈر حبیب اللہ جان کو ٹیلیفون کیا اور منشیات اور گاڑی چھوڑنے کو کہا۔ دو برس بعد جب امریکی و افغان انسدادِ منشیات فورس کو کابل کے نزدیک ایک ٹرک سے پچاس کلو سے زائد ہیروئن ملی تو تفتیش کے دوران اخباری رپورٹ کے مطابق امریکی تفتیش کاروں کو پتہ چلا کہ اس کھیپ کا تعلق ایک ایسے شخص سے ہے جو احمد ولی کرزئی کا رابطہ کار ہے۔ یاد رہے کہ اسی برس جولائی میں نیویارک ٹائمز میں ہی انسدادِ منشیات کے بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ کے لیے بطور کوارڈینیٹر کام کرنے والے تھامس شویک کا بیان شائع ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور ان کی حکومت ملک میں منشیات کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ شویک نے الزام لگایا تھا کہ صدر کرزئی سیاسی وجوہات کی بناء پر منشیات کا کاروبار کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔ تاہم افغان صدر حامد کرزئی نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ | اسی بارے میں ’افیون کے کاروبار کا سب سے بڑا مرکز‘ 27 August, 2007 | آس پاس ’انسدادِ منشیات میں رکاوٹ‘24 July, 2008 | آس پاس نوے فیصد پوست افغانستان میں26 June, 2007 | آس پاس پوست پر پابندی، ہیروئن کم غربت زیادہ22 June, 2008 | آس پاس افغانستان، افیون کی پیداوار میں اضافہ02 March, 2007 | آس پاس ’طالبان پوست کی کاشت کے ذمہ دار‘ 29 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||