BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 July, 2008, 22:22 GMT 03:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انسدادِ منشیات میں رکاوٹ‘
افغان صدر
افغان صدر حامد کرزئی نے ان الزامات کی تردید کی ہے
انسداد منشیات سے متعلق ایک سابق امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور ان کی حکومت ملک میں منشیات کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

گزشتہ ماہ تک انسدادِ منشیات کے بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ کے لیے بطور کوارڈینیٹر کام کرنے والے تھامس شویک نے الزام لگایا ہے کہ صدر کرزئی سیاسی وجوہات کی بناء پر منشیات کا کاروبار کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں تھامس شویک کا کہنا ہے کہ’منشیات سے متعلقہ رشوت ستانی کا سلسلہ افغان حکومت میں بہت اوپر تک جا پہنچا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان صدر ملک کے جنوبی علاقوں میں منشیات کا کاروبار کرنے والے اہم افراد کے خلاف کارروائی کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ اسی علاقے سے انہیں سیاسی حمایت ملتی ہے۔ شویک کا کہنا ہے کہ انہیں افغان اٹارنی جنرل عبدالجبار ثابت سمیت سینیئر افغان حکام نے بتایا کہ صدر کرزئی نے بیس کے قریب رشوت خور افسران کے خلاف کارروائی رکوا دی۔

شویک کے مطابق’ کرزئی کے مخالف طالبان کو منشیات کے کاروبار سے فائدہ ہوا لیکن اس کاروبار سے کہیں زیادہ فائدہ ان(کرزئی) کے حامیوں نے اٹھایا‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تھامس شویک نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ صدر کرزئی نے طاقت کھونے کی بجائے تھوڑی بہت رشوت ستانی برداشت کی۔

افغان صدر نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا کوئی حامی منشیات کی سمگلنگ میں ملوث نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے آدھے سے زیادہ صوبوں میں منشیات کی پیداوار میں خاصی کمی ہوئی ہے۔

حامد کرزئی نے کہا کہ’میں تمام افغانیوں پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام نہیں لگا سکتا۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ مجبوری میں یہ کام کرتے ہوں تاہم باقی سب بین الاقوامی ڈرگ مافیا کے ارکان ہیں اور انہیں ہی اس کاروبار سے فائدہ پہنچتا ہے‘۔

تھامس شویک نے امریکی اور نیٹو افواج پر بھی انسداد منشیات کی کوششوں میں مدد فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کے مطابق امریکی اور برطانوی افواج کے لیے پوست کی کاشت کا خاتمہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے طالبان کو مکمل شکست دینے کے بعد نمٹا جا سکتا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے رابطے کے باوجود اس الزام کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تاہم برطانوی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ منشیات افغانستان کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں اور برطانیہ انسدادِ منشیات کے لیے کوشش کرنے والے صفِ اول کے ممالک میں سے ایک ہے‘۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں گزشتہ برس اتنی پوست پیدا ہوئی جس سے ایک اندازے کے مطابق آٹھ سو اسی ٹن ہیروئن کی تیار کی جا سکتی ہے اور ہیروئن کی اس مقدار کی بین الاقوامی بازار میں قیمت قریباً چار ارب ڈالر کے مساوی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد