BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 November, 2008, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرزئی کا اوباما سے حملےروکنےکامطالبہ
امریکی فوج
’اس طرح کی بمباری سے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے‘

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ قندہار کے جنوب میں شادی کے ایک اجتماع پر امریکی بمباری سے چالیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

افغان صدر نے نومنتخب امریکی صدرباراک اوباما سے کہا ہے کہ ’اس طرح کی بمباری سے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے۔‘

حالیہ واقعہ پیر کی رات کو قندہار کے دور دراز علاقے شاہ ولی کوٹ ڈسٹرکٹ میں پیش آیا۔

نئے صدر سے مطالبہ
 ’امریکہ کے نئے صدر سے میرا پہلا مطالبہ ہے کہ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتیں بند کی جائیں اور کارروائی ان علاقوں میں کی جائے جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہوں اور تربیتی کیمپ ہوں
حامد کرزئی
اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی فوج طالبان کے خلاف کارروائی کر رہی تھی کہ اسے ہوائی حملے کا کہا گیا۔ اس ہوائی حملے میں ایل میزائل شادی کے اجتماع پر گرا جس میں خواتین اور بچوں سمیت چالیس افراد ہلاک ہوئے۔

دولہن کے باپ روزبین خان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ’میرا زخمی بیٹا میری گود میں تھا اور اس کا خون بہہ رہا تھا۔ وہ کل رات چل بسا۔‘

مقامی لوگوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ شادی کا کھانا ختم ہی ہوا تھا کہ کسی نے قریبی پہاڑی پر بین الاقوامی فوج پر فائر کر دیا۔اس کے بعد فوجیوں نے بھی فائر کیا اور ہوائی حملہ کیا گیا۔

امریکی فوج کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ایک بیان میں حامد کرزئی نے کہا ہے ’امریکہ کے نئے صدر سے میرا پہلا مطالبہ ہے کہ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتیں بند کی جائیں اور کارروائی ان علاقوں میں کی جائے جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہوں اور تربیتی کیمپ ہوں۔‘

بی بی سی کے ایئن پینل نے کابل سے بتایا کہ افغانستان کے کئی علاقوں میں طالبان کے لیے ہمدردی نہیں پائی جاتی لیکن بین الاقوامی فوج کے لیے بھی نہیں ہے اور خاص طور پر ایسے واقعات کے بعد جس میں شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہو۔

شہریوں کی ہلاکتیں بین الاقوامی فوج کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے۔
پچھلے ماہ امریکی فوج نے کہا کہ بائیں اگست کو ایک حملے میں تینتیس شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شہریوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر طالبان کے ہاتھوں ہوئی ہیں جبکہ چند بین الاقوامی فوج کے ہاتھوں۔

افغانستان ہجرت
باجوڑ میں لڑائی سے بچ کر لوگ کنڑ جا رہے ہیں
پرخطر راہوں پر
افغانستان کی سڑکوں پر کیٹ کلارک کا سفر
فائل فوٹوسات سال بعد
اتحادیوں کو افغانستان زیادہ خطرناک لگتا ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد