کرزئی کا اوباما سے حملےروکنےکامطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ قندہار کے جنوب میں شادی کے ایک اجتماع پر امریکی بمباری سے چالیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ افغان صدر نے نومنتخب امریکی صدرباراک اوباما سے کہا ہے کہ ’اس طرح کی بمباری سے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے۔‘ حالیہ واقعہ پیر کی رات کو قندہار کے دور دراز علاقے شاہ ولی کوٹ ڈسٹرکٹ میں پیش آیا۔
دولہن کے باپ روزبین خان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ’میرا زخمی بیٹا میری گود میں تھا اور اس کا خون بہہ رہا تھا۔ وہ کل رات چل بسا۔‘ مقامی لوگوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ شادی کا کھانا ختم ہی ہوا تھا کہ کسی نے قریبی پہاڑی پر بین الاقوامی فوج پر فائر کر دیا۔اس کے بعد فوجیوں نے بھی فائر کیا اور ہوائی حملہ کیا گیا۔ امریکی فوج کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایک بیان میں حامد کرزئی نے کہا ہے ’امریکہ کے نئے صدر سے میرا پہلا مطالبہ ہے کہ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتیں بند کی جائیں اور کارروائی ان علاقوں میں کی جائے جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہوں اور تربیتی کیمپ ہوں۔‘ بی بی سی کے ایئن پینل نے کابل سے بتایا کہ افغانستان کے کئی علاقوں میں طالبان کے لیے ہمدردی نہیں پائی جاتی لیکن بین الاقوامی فوج کے لیے بھی نہیں ہے اور خاص طور پر ایسے واقعات کے بعد جس میں شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہو۔ شہریوں کی ہلاکتیں بین الاقوامی فوج کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شہریوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر طالبان کے ہاتھوں ہوئی ہیں جبکہ چند بین الاقوامی فوج کے ہاتھوں۔ |
اسی بارے میں افغانستان: اکانوے عام شہری ہلاک22 August, 2008 | آس پاس شہری ہلاکتوں میں’تین گنا اضافہ‘08 September, 2008 | آس پاس یو این، شہری ہلاکتوں پر تشویش23 September, 2008 | آس پاس شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف09 October, 2008 | آس پاس ہلمند: حملے میں پھر شہری ہلاک16 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||