ہلمند: حملے میں پھر شہری ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبہ ہلمند میں غیر ملکی افواج کے ایک فضائی حملے میں بچوں اور عورتوں سمیت کم از کم ستائیس عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے افغانستان کے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں اٹھارہ ایسی لاشیں دیکھی ہیں جو ’بیرونی افواج‘ کے ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ تمام بچوں کی عمریں پندرہ سال سے کم تھیں۔ صوبہ ہلمند میں عام طور پر برطانوی افواج کارروائی کرتی ہیں۔ افغانستان میں اس سے پہلے بھی کئی بار امریکی فوج کے فضائی حملوں میں افغان شہری ہلاک ہوتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونی افواج کے فضائی حملوں میں افغان عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں نیٹو کی سربراہی میں کام کرنے والی افواج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیٹنس نے کہا کہ بیرونی افواج کے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتیں سے افغانوں کے’دل اور دماغ‘جیتنے کی کوششوں کو سخت دھچکا لگا ہے۔ اتوار کے روز افغان اور برطانوی حکام نے کہا تھا کہ لشکرگاہ کے مضافات میں نیٹو افواج کے آپریشن میں درجنوں طالبان مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔ تین روز بعد برطانوی اور افغان حکام نے کہا کہ اٹھارہ جنگجو اس وقت مارے گئے جب انہوں نے لشگر گاہ کے قریب ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ | اسی بارے میں افغانستان: اکانوے عام شہری ہلاک22 August, 2008 | آس پاس شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف09 October, 2008 | آس پاس یو این، شہری ہلاکتوں پر تشویش23 September, 2008 | آس پاس عراق:امریکی حملے میں شہری ہلاکتیں19 September, 2008 | آس پاس شہری ہلاکتوں میں’تین گنا اضافہ‘08 September, 2008 | آس پاس ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||