BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2009, 07:23 GMT 12:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل حملوں میں انیس ہلاک
افغانستان میں مزید فوج کی فوری ضرورت: ایڈمیرل مولن
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تین سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے ہیں جن میں کم از کم انیس لوگ مارے گئے ہیں جبکہ امریکی فوج کے سربراہ مائک مولن نے کہا ہے کہ افغانستان میں مزید فوج فوری طور پر درکار ہے۔

مرنے والوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پہلا حملہ قیدخانوں سے متعلق محمکے کی عمارت پر کیا گیا جہاں دو خود کش بمباروں نے دھماکےکیے۔

حملہ آوروں نے شہر کے وسط میں واقع وزارت انصاف اور وزارت تعلیم کو بھی نشانہ بنایا۔ کم سے کم پچاس افراد زخمی بتائے گئے ہیں۔

دوسرے واقعہ میں چار مسلح افراد نے وزارت انصاف میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ دو کو باہر کی گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ لیکن دو اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

نامہ نگار ائین پینل کے مطابق ایک مرحلے پر وزیر انصاف کو ان کے محافظوں نے ان کے دفتر میں بند کر دیا تھا۔ بعد میں باقی دونوں حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔

تیسرے واقعہ میں ایک حملہ آورنے وزارت تعلیم میں داخل ہونے کی کوشش کی اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

ان حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے جن کا کہنا ہےکہ یہ کارروائی افغانستان کی جیلوں میں برے حالات کے خلاف کی گئی ہے۔

وزارت انصاف کے باہر افغان فوجی

بدھ کے حملے تقریباً بیک وقت کیے گئے اور حملہ آوروں کی تعداد سات تھی۔

حملے ایسےوقت کیے گئے ہیں جب افغانستان اور پاکستان کے لیے صدر باراک اوباما کے خصوصی ایلچی کابل کا دورہ کرنے والے ہیں۔

ادھر کناڈا میں خطاب کرتے ہوئے ایڈمیرل مائک مولن نے کہا کہ افغانستان کے ان علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے مزید فوج فوری طور پر درکار ہے جہاں سے مزاحمت کاروں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم مرحلہ ہے اوراس وقت تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا تھا کہ صدر باراک اوباما آئندہ چند دنوں میں یہ فیصلہ کریں گے کہ مزید کتنی فوج افغانستان بھیجی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد