’ملکر دہشتگردوں سے لڑیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اپنے پہلا افغانستان کا دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کرکے بدھ کے دن اسلام روانہ ہو گئے۔. گزشتہ روز افغانستان اور پاکستان کے رہنماؤں نےمذاکرات کے بعد دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر مبنی تیرہ نکات پر مشتمل مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے۔ منگل کے روز افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی مشترکہ پریس کانفرانس بہت خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی۔ صدر حامد کرزئی نے آصف علی زرداری کو بھائی کہہ کر خطاب کرتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ جواب میں صدر آصف علی زرداری نے سینے پر ہاتھ رکھ کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ صدر حامد کرزئی اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان بات چیت کے اہم موضوعات میں دہشتگردی کے خلاف جنگ، دونون ممالک سے دہشتگردوں کا قلع قمع اور دونوں رہنماؤں کے بقول ملک دشمن عناصر کا صفایا اور دونوں ممالک کے درمیان مزید بہتر تعلقات شامل ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کےصدر آصف علی زرداری کے ساتھ مذاکرات کو بہت کامیاب قرار دیا اور کہا آج افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات وہی ہیں جو دونون ممالک کے عوام اور حکومتیں چاہتےہیں۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے صدر حامد کرزئی کو بھائی کہہ کر کہا ’آج ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان شانہ بشانہ ان عناصر سے لڑیں گے جو خطے میں امن کے لیے خطرہ ہیں۔‘ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں دہشتگردوں اور افغان حکومت مخالفین کو پناہ دینے کے سوال کو جواب دینے سے گریز کیا تا ہم اس بات پر تاکید کی کہ دونوں ممالک کے دشمن ایک ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کے روز کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کے اندر امن اور استحکام کو قائم رکھنے کےلیے پاک افغان سرحد پر امن نہایت ضروری ہیں. افغان مبصرین کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری کی صدر پاکستان منتخب ہو نے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں بہتری آنے کے توقعات بڑھ گئی ہیں۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان صدر آصف علی زرداری کا افغانستان کا دورہ دونوں ممالک کےلیے تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان کی حکومت نے صدر آصف علی زرداری کے استقبال کے سلسلے میں کافی تیاریاں کی تھیں۔ افغان حکومت نے بہت سارے دوسرے سربراہان مملکت کے برعکس صدر آصف علی زرداری کو توپوں کا سلامی بھی پیش کی۔. اس سلسلے میں کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لیکر افغان صدر ہاؤس تک دونون ممالک کے پرچم اور دونوں رہنماؤں کی تصاویر مختلف چاراہوں میں آویزان کی گی تھیں۔. تصاویر کے نیچے پاکستان افغانستان دوستی زندہ باد، ’پاکستان افغانستان دوستی ہمیشہ قائم ر ہے گی‘ کے نعرے درج تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کافی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی تاہم صدر زرداری کے آنے سے پھر سے دونوں ملک تعلقات میں بہتری کی دوبارہ کوشش ہو رہی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی سے صدر آصف زرداری اب تک تین مرتبہ اور مختلف مواقع پر ملاقات کرچکے ہیں۔ افغان صدر حامد کرزی ، آصف علی زرداری کی اسلام آباد میں تقریب حلف برادری میں بطور مہمان خاص بھی شریک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ’ہم اپنی جنگیں خود لڑیں گے‘27 December, 2008 | پاکستان ’ایران، چین کا خطے میں کردار چاہیے‘03 January, 2009 | پاکستان زرداری کابل دورے پر روانہ ہو رہے ہیں18 December, 2008 | پاکستان ’دنیا اسلام کے خوف میں مبتلا ہے‘14 November, 2008 | آس پاس کرزئی کی ملا عمر کو امن پیشکش16 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||