BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 November, 2008, 01:43 GMT 06:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دنیا اسلام کے خوف میں مبتلا ہے‘

آصف علی زرداری
مذہب کے خلاف نفرت انگيز باتوں کو ناقابل قبول مانا جائے: زرداری
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اسلام کے خلاف نفرت انگيز باتوں نے مسلمانوں کے خلاف ناانصافیوں کو جنم دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بین المذاہب ’ثقافت امن کانفرنس‘ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر نے عالمی برادری کے سامنے ایک بین الاقوامی ایجنڈا تجویز کیا کہ کسی بھی مذہب کے خلاف اشتعال انگیز باتوں کو ناقابل قبول قرار دیا جائے۔

پاکستانی صدر کی تقریر کانفرنس میں مقررین کی ترتیب اور وقت کے حوالے سے امریکی صدر جارج بش کی تقریر کے فوراً بعد تھی۔ لیکن سات صفحات پر انگریزی میں لکھی ہوئي صدر پاکستان کی تقریر، میں جا بجا سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ اور انکی اہلیہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو کے لیے خراج تحسین سے بھری ہوئی تھی۔

اس سے پہلے امریکی صدر بش نے کانفرنس سے خطاب میں اپنے تئیں مذہب کی تبدیلی کی آزادی کو بنیادی حق قرار دیا اور ساتھ ہی کہا کہ جمہوریت کےفروغ کےذریعے مذہبی آزادیوں کویقینی بنایا جاسکتا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ دنیا میں اسلام کا تصوراتی خوف چھایا ہوا ہے اور یہ دہشتگردوں کی امیدوں کے عین مطابق ہے جسکا وہ اشتعال پھیلانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب میں جو لوگ اسلام کے خیالی خوف کو قبول کرتے ہیں وہ اصل میں دہشتگردوں کے جال میں آئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب (اسلام) کےخلاف نفرت پر مبنی گفتگو نے امتیازی سلوک کی ایک نئی شکل کو جنم دیا ہے جس سے نئي کشیدگیاں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔

پاکستان کے صدر نے عالمی برادری کو تجویز کیا کہ ایک بین القوامی ایجنڈا وضع کیا جائے جس کے تحت کسی بھی مذہب کے خلاف نفرت انگيز باتوں کو ناقابل قبول مانا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انکے مجوزہ عالمی ایجنڈے کے تحت کسی بھی شخص کے ساتھ اسکے عقیدے کی بنیاد پر ناانصافی اور امتیازی سلوک کی نہ فقط الفاظ کی حد تک بلکہ با معنی اقدام کے ذریعے بھی حوصلہ شکنی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مجوزہ بین الاقوامی ایجنڈے کے ذریعے تہذیبوں اور عقائد کے مابین مکالمے کی حوصلہ افزائي کی جائے۔ ان کے مجوزہ انٹرنیشنل ایجنڈے کی آخری بات کے طور پر انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کی آگ میں پھنسی ہوئي کم وسائل یافتہ قوموں کو مضبوط بنانے میں بین الاقوامی برادری ان کی مدد کرے۔

بن لادن فائل فوٹوصد سالہ جنگ
انسدادی جنگ تیس سے سو سال چل سکتی ہے
ترکِ اسلام کی سزا
اسلام چھوڑنے والوں پر کیا گزرتی ہے؟
قرآن احادیث پر تحقیق
ترکی میں احادیث کی از سر نو تشریح کا کام
جہادیاصلاحی پروگرام
جہادیوں کوعراق سےدور رکھنےکا سعودی طریقہ
آرچ بشپ ڈاکٹر روون ولیئم برطانیہ میں شریعت
چرچ آف انگلینڈ کے لیڈر کو شدید تنقید کا سامنا
 آصف زرداری آگے سیاست ہے
یہاں سے آگے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی نظریہ۔
صدر مشرفہمیشہ نایاب چیز
صدر مشرف، اخلاقی برتری اور کاٹھ کا گھوڑا
اسی بارے میں
امریکہ کے غلام نہیں: گیلانی
02 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد