پاکستانی صدر امریکہ پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے بلائی جانے والی عالمی بین المذاہب سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ آصف علی زرداری منگل کی سہ پہر نیویارک پہنچے جہاں وہ بارہ اکتوبر کی صبح نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں ہونے والی اس کانفرنس میں شریک ہونگے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس موقع پر نیویارک آئے ہیں۔ یہ بین المذاہب کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا بادشاہ عبداللہ کی اس تجویز کی روشنی میں بلائي گئی ہے جو انہوں نے گذشتہ جولائي میں سپین میں میڈرڈ کانفرنس کے دوران عیسائیت، اسلام، یہودیت، بدہ مت اور ہندو مت کے ماننے والے ممالک کی نمائندگي کرنے والے وفود کے سامنے رکھی تھی۔ تہذیبوں کے درمیان مکالمۂ امن کے عنوان سے نیویارک میں ہونیوالی اس کانفرنس میں امریکہ کے صدر بش بھی خطاب کریں گے جبکہ جنرل اسمبلی کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے صدر شمعون پیریز نے بھی کانفرنس میں اپنی شرکت کی توثیق کی ہے۔ اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی نےگذشتہ دسمبر میں پاکستان سمیت اٹھاون رکن ممالک نے’اقوام عالم کے مابین امن کے لیے بین المذاہب اور بین التہاذیب مکالمے اور تعاون پر زور دیتے ہوئے قرارداد منظور کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ کانفرنس کا موضوع ’ کانفرنس برائے ثقافت امن‘ ہے اور اس میں بین المذاہب مکالمے پر مرکوز کیا گيا ہے جس کا مقصد دنیا کو پرامن مقام بنانے کیلیے مذہب سے لیکر اخلاقی اقدار ، کنفیوشس سے لیکر کارل مارکس تک کے خیالات میں یقین رکھنے والے ممالک کا مل بیٹھ کر مکالمہ کرنا ہے۔ اس کانفرنس کے موقع پر نیویارک میں پولیس اور دیگر امریکی سکیورٹی اداروں نے اقوام متحدہ کے صدر دفاتر کی عمارات اور اس کے قرب و جوار کے علاقے اور وسطی مشرقی مین ہٹن میں انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں جنرل کیانی کے بیان کا خیر مقدم11 September, 2008 | پاکستان ’پاکستان کے اندر بھی کارروائی ضروری ہے‘10 September, 2008 | پاکستان امریکہ کے غلام نہیں: گیلانی02 September, 2008 | پاکستان ایک اور امریکی حملہ، بارہ ہلاک12 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||