خیبر کا معرکہ کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی پر فوج کشی سے دو روز قبل انگریزی روزنامہ ڈان نے ایک تـجزیہ نما خبر صفحہ اول پر جلی حروف میں شائع کی جس کے مطابق پشاور کا انتظامی کنٹرول چند ماہ کے اندر اندر مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے ایسی کئی خبریں ٹانک اور سوات کے اضلاع کے بارے میں چھپ چکی ہیں لیکن حکومت نے ہمیشہ ان کی صداقت سے انکار کیا۔ تاہم روزنامہ ڈان میں خبر چھپتے ہی ایک اعلٰی سطح کے اجلاس میں قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کا تمام تر اختیار فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دے دیا گیا۔ اس فیصلے کی تشہیر نہ صرف مقامی سطح پر بھرپور طریقے سے کی گئی بلکہ اسے امریکی اہلکاروں نے بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ جمعرات اور جمعہ کو باقاعدگی سے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں فوجی آپریشن کی تیاریوں کی خبریں آتی رہیں اور پھر سنیچر کو درجنوں ٹیلیوژن کیمروں کی موجودگی میں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اس قبائلی قصبے میں داخل ہو گئیں۔ ظاہر ہے کہ اس قدر تشہیر کے بعد آپریشن سے قبل ہی مقامی عسکریت پسند علاقے سے نکل گئے اور سیکیورٹی فورسز کو کہیں بھی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ چند مقامی تنظیموں کے ٹھکانے مسمار کرنے کے علاوہ نہ تو اس آپریشن میں ابھی تک کوئی اہم رہنما گرفتار ہوا اور نہ ہی ہلاک۔ البتہ وفاقی مشیر برائے داخلہ نے آپریشن شروع ہونے کے فوراً بعد دعوی کیا کہ پشاور کو ایک بڑے خطرے سے بچا لیا گیا ہے۔
جیسا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی سے متعلق امور کے معاملے میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے، قبائلی علاقوں کی صورتحال اس آپریشن کے شروع ہونے کے بعد واضح ہونے کی بجائے اور مبہم ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک اہم سوال یہ ابھرا ہے کہ کیا واقعی پشاور کی صورتحال اس قدر خطرناک ہو چکی تھی کہ اسے ایک باقاعدہ فوجی آپریشن کے بغیر سنبھالنا ناممکن ہو گیا تھا؟ بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دیکھا جائے تو ضلع پشاور کی جنوبی اور مغربی حدود تقریباً ریڈ زون بن چکی ہیں۔ جنوبی سرحد سے پشاور میں داخل ہونے والی اہم ترین شاہراہ انڈس ہائی وے ہے جو کوہاٹ کی سرنگ سے گزرتے ہوئے کراچی کو پشاور سے ملاتی ہے۔ پاکستان سے افغانستان جانے والا زیادہ تر سامان اسی سرنگ سے گزرتا ہے۔ ہارون رشید کے مطابق طالبان کی کارروائیوں کے باعث یہ سرنگ اب کچھ عرصے سے رات کو باقاعدگی سے بند کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح مشرق سے پشاور میں داخل ہونے والی دو اور بڑی سڑکوں، جی ٹی روڈ اور موٹروے کے آس پاس کے علاقوں میں بھی پچھلے چند مہینوں سے طالبان کی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔ مثلاً چند ہفتے قبل نوشہرہ سے پسند کی شادی کرنے والے ایک جوڑے کو اغوا کر کے قبائلی علاقوں میں لے جا کر قتل کر دیا گیا۔ پشاور کے شمال سے نکلنے والا رستہ شہر کو چارسدہ اور مردان کے ذریعے صوبے کے شمالی علاقوں سے ملاتا ہے جہاں طالبان کے اثر و رسوخ کی سب سے بڑی مثال سوات کی صورتحال ہے۔ جبکہ شہر کی مغربی سرحدوں سے نکلنے والے دونوں راستے مہمند اور خیبر ایجنسی سے گزرتے ہوئے افغانستان میں داخل ہو جاتے ہیں۔
بی بی سی نیوز کے الیاس خان کہتے ہیں کہ طالبان کا اثرورسوخ قبائلی علاقوں سے نکل کر اب ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت، کوہاٹ اور کرک جیسے اضلاع تک پھیل گیا ہے۔ الیاس خان کے مطابق صوبہ سرحد کی موجودہ صورتحال کا موازنہ روسی دور کے افغانستان سے کیا جا سکتا ہے جب افغانستان کے بڑے شہر تو حکومت کے کنٹرول میں تھے لیکن دیہی علاقوں پر مذہبی گروہوں کا قبضہ تھا۔ الیاس خان کے مطابق مضافات میں طالبان تب کامیاب ہوتے ہیں جب مقامی آبادی حکومتی مشینری سے مایوس ہونے لگتی ہے اور پچھلے چند ماہ میں اس مایوسی نے کئی اضلاع میں مقامی آبادی کو اپنے جھگڑے نمٹانے کے لیے طالبان سے مدد لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ صوبہ سرحد کی صورتحال بی بی سی کے نامہ نگاروں کے جائزوں کے مطابق ہے تو پھر موجودہ آپریشن کے مقاصد اور بھی مبہم ہو جاتے ہیں۔ سرکاری حلقوں کے مطابق اس آپریشن کا مقصد ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانا ہے جو کوہاٹ سرنگ کے ذریعے نیٹو افواج کے لیے افغانستان پہنچائی جانے والی اشیاء کے ٹرکوں پر حملے کرتے ہیں۔ تاہم مبصرین کے خیال میں اس کارروائی کا بظاہر مقصد خیبر ایجنسی کے ان چھوٹے چھوٹے شدت پسند گروہوں کا خاتمہ ہے جن سے پشاور کو خطرات درپیش ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق ایسے گروہوں کا تحریک طالبان پاکستان سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ حکومت خود بھی کئی بار کہہ چکی ہے کہ موجودہ آپریشن کا مقصد جرائم پیشہ افراد کو قابو میں کرنا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر آپریشن شروع ہوتے ہی تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کی دھمکیاں کیوں آنے لگیں؟ بلکہ تحریک طالبان نے یہاں تک کہا کہ اگر آپریشن فوری طور پر نہ روکا گیا تو وہ اسلام آباد سمیت دوسرے بڑے شہروں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ہارون رشید طالبان کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کے بارے میں کہتے ہیں کہ طالبان رفتہ رفتہ قبائلی علاقوں میں مقامی قیادت کے جھگڑے نمٹا کر اپنے لوگوں کو سامنے لا رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت پچھلے دنوں بیت اللہ محسود کے ایک نائب حکیم اللہ نے اورکزئی ایجنسی کا کنٹرول سنبھالا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان اور تحریک طالبان سوات نے گو مختلف علاقوں میں جنم لیا لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک ہی تنظیم ہے۔ اور حکومت اور طالبان کے مابین جاری مذاکرات فی الوقت چاہے جس بھی موڑ پر کھڑے ہوں، ان دونوں میں اعتماد کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن شروع ہونے سے ایک روز پہلے اس وقت دیکھنے میں آئی جب سوات سے اطلاعات آئیں کہ طالبان نے مالم جبہ کے مقام پر واقع ایک سیاحتی مرکز کو نذرآتش کر دیا ہے۔ گو حکومت کی جانب سے ان اطلاعات پر خاموشی رہی لیکن طالبان نے خود کو اس واقعہ سے لاتعلق بتاتے ہوئے اسے اپنے خلاف بدظنی پیدا کرنے کی ایک سازش قرار دیا۔ صاف ظاہر ہے کہ ان حالات میں قبائلی علاقوں اور ان سے ملحقہ بندوبستی علاقوں میں کسی قسم کا فوجی آپریشن سوائے طالبان اور جرائم پیشہ افراد کو ایک ہی کشتی میں دھکیلنے کے اور کوئی نتائج حاصل نہ کر سکے گا۔ اگر حکومت واقعی صوبہ سرحد کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے سے پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ تحریک طالبان پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی اصل وجہ لوگوں کا طالبان نظریے سے لگاؤ ہے یا حکومت کی انتظامی نااہلی جو طالبان کو بندوبستی علاقوں کے انتظامی معاملات میں دخل اندازی کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||