جنرل کیانی کے بیان کا خیر مقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ارکان نے جمعرات کو آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی غیر ملکی فوج کو پاکستانی حدود میں آکر کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پاکستانی افواج اپنی سرحدوں کا بھر پور دفاع کریں گی۔ تاہم اس کمیٹی کے ارکان نے قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کی طرف سے ’معصوم‘ لوگوں پر فائرنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ایس ایم ظفر کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ پاکستانی صدر یا وزیر اعظم کی طرف سے اس طرح کا بیان آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف کے بیان کے خلاف سینیٹ میں ایک تحریک التواء بھی جمع کروائی ہے۔ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عبدالرشید نے کہا کہ مشیر داخلہ رحمان ملک نے ایک بیان میں رمضان کے تقدس میں قبائلی علاقوں میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن حالات اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ اور دوسرے قبائلی علاقوں میں طیاروں کی فائرنگ بدستور جاری ہے جس میں بےگناہ لوگوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں جبکہ شدت پسندوں کے ٹھکانے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اس کارروائی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور شدت پسندوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے۔ قبائلی علاقوں سے ہی تعلق رکھنے والے سینیٹر ڈاکٹر سعد نے کہا کہ چھ ستمبر تک باجوڑ میں حالات ٹھیک تھے اور پھر اچانک اس علاقے میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پمفلٹ پھینکے جاتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ تمام سڑکیں عوام اور گاڑیوں کے لیے کھلی رہیں گی لیکن جونہی وہ گن شپ ہیلی کاپٹر نظر آئیں لوگ ہاتھ اٹھا لیں اور ایسا نہ کرنے والوں کو گولی مار دی جائے گی۔
اس کے علاوہ اس پمفلٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر کسی کے پاس اسلحہ نظر آیا تو اُس کو وہیں پر ہی گولی مار دی جائے گی۔ ڈاکٹر سعدنے کہا کہ باجوڑ کے علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کا سب سے بڑا سبب یہی پمفلٹ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ کی ساڑھے آٹھ لاکھ آبادی ہے جس میں سے نصف آبادی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ اور دیگر علاقوں میں بمباری ریاستی مظالم کی بدترین مثال ہے۔ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ یہ پمفلٹ حکومتی ایماء پر نہیں پھینکے گئے اور اس ضمن میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ اس علاقے سے نقل مکانی کرنےوالے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کے لیے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں پینتالیس خیمے بنائے گئے تھے۔ تاہم رمضان کا مہینہ شروع ہونے کے بعد زیادہ تعداد میں لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہیں اس لیے اب صرف تین کیمپ رہ گئے ہیں جہاں پر 3484 افراد رہائش پذیر ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ان کیمپوں میں وبائی امراض اور بلخصوص پیٹ کی بیماریاں پھوٹ پڑیں اور ان بیماریوں کو روکنے کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔ ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ اس بمباری کی وجہ سے جو افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اُن کو مالی معاوضہ دیا جائے۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والی بمباری سے بےگناہ افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کو حکومتی دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کمیٹی کے ارکان نے ان بے گھر ہونے والے افراد کی دوبارہ بحالی کے لیے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کے اندر بھی کارروائی ضروری ہے‘10 September, 2008 | پاکستان ایف سی آر کا قانون تبدیل کیا جا رہا ہے11 September, 2008 | پاکستان غیر ملکی افواج کو اجازت نہیں:گیلانی11 September, 2008 | پاکستان انسانی ترقی کمیشن کیلیے کمیٹی29 August, 2008 | پاکستان سندھ پولیس و رینجرزکی اصلاحات23 May, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے کمیٹی کی تشکیل14 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||