BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 May, 2008, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ پولیس و رینجرزکی اصلاحات

 کراچی پریس کلب پر سینیٹر محمد طلحہ محمود
سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ حکومت خود پولیس کو کرپشن کے لیے تیار کرتی ہے،
سینیٹ کی وزارت داخلہ کے بارے میں قائمہ کمیٹی نے کہا ہے کہ پولیس کراچی میں امن و امان کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، اور اس کی کئی وجوہات بتائی ہیں۔

کراچی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سربراہ سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس پر عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور اب عوام نے قانون ہاتھ میں لے لیا ہے کہ وہ خود انصاف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت خود پولیس کو کرپشن کے لیے تیار کرتی ہے، چوبیس گھنٹے کے گشت کے لیے موٹر سائیکل کو ڈیڑھ لیٹر اور پولیس موبائیل کو تین لیٹر پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے ۔ستر فیصد تھانوں میں واش روم اور ٹیلیفون تک نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پولیس کو پیکیج دیا جائے جس میں ہفتے میں ایک روز چٹھی، آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی اور مطلوبہ پیٹرول اور طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہو۔ اس کے علاوہ آلودہ پانی کی وجہ سے پولیس اہلکاروں میں ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے ۔

 سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ حکومت خود پولیس کو کرپشن کے لیے تیار کرتی ہے، چوبیس گھنٹے کے گشت کے لیے موٹر سائیکل کو ڈیڑھ لیٹر اور پولیس موبائیل کو تین لیٹر پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے ۔ستر فیصد تھانوں میں واش روم اور ٹیلیفون تک نہیں ہیں۔

سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ سندھ میں جو پولیس اہلکار شہید ہوتا ہے اس کے ورثا کو تین لاکھ جبکہ پنجاب میں پانچ لاکھ روپے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سندھ پاکستان کا حصہ نہیں ہے کہ یہاں بھی ورثا کو پانچ لاکھ روپے اور بچوں کو ملازمت دی جانی چاہیئے۔

انہوں نے کراچی میں کوسٹ گارڈ اور رینجرز حکام سے بھی ملاقاتیں کی اور بریفنگ لی۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ کوسٹ گارڈ کا انٹلیجنس محکمہ بالکل بے کار ہے جس وجہ سے انہوں نے جگہ جگہ چیک پوسٹیں بنائی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر جگہ پولیس، رینجرز اور کوسٹ گارڈ بھی موجود ہیں جبکہ ایک ہی محکمہ ہونا چاہیئے۔

ان کے مطابق کوسٹ گارڈ محکمہ میں جو بھرتیاں کی جا رہی ہیں ان میں سندھ اور بلوچستان کو ان کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے، وہ سفارش کریں گے کہ ان میں مقامی لوگوں کا کوٹہ بڑھایا جائے کیونکہ کوسٹل بیلٹ کا تعلق نہ پنجاب سے ہے نہ سرحد اور گلگت سے ہے۔

انہوں نے رینجرز کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی انٹلیجنس سروس کو بہتر بنایا جائے، یہ مختلف جگہوں پر اس وقت گزارہ کر رہے ہیں حکومت ان کو با عزت جگہ فراہم کرے جہاں وہ با عزت طریقے سے رہ سکیں۔

یاد رہے کہ سندھ میں رینجرز نے تعلیمی اداروں، سٹیڈیم اور دیگر سرکاری عمارتوں میں رہائش اور دفاتر قائم کر رکھے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اگر رینجرز کو مستقل بنیادوں پر رکھ لیا ہے اور انہوں نے امن امان کے حوالے سے معاملات دیکھنے ہیں تو ان کے مسائل حل کریں۔ ان کی گاڑیوں، ساز وسامان کے مسائل حل کیے جائیں ۔

سینیٹر محمد طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ رینجرز کا انٹلیجنس محکمہ انتہائی کمزور ہے جس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاملات اچھے طریقے سے حل ہوسکیں جو ہر جگہ چیک پوسٹیں قائم ہیں عوام کو تکلیف نہ ہو ۔رینجرز کی تعداد میں بھی اضافے کی ضرورت ہے جس کے لیے مقامی لوگوں کو اولیت دی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ تمام سفارشات سینیٹ میں پیش کی جائیں گی۔

ڈاکٹر شعیب سڈل’تحفظات بے بنیاد‘
جرائم کےخلاف بلاامتیاز کارروائی کروں گا: سڈل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد