BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 May, 2008, 22:56 GMT 03:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نصیرآباد سے دو پولیس اہلکار اغواء

پولیس اہلکار(فائل فوٹو)
بلوچستان میں پولیس اہلکار پہلے بھی ہتھیار بندوں کا نشانہ بن چکے ہیں
بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں نامعلوم افراد نے کم سے کم دو پولیس اہلکاروں کو اغواء کر لیا ہے جبکہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے سے کشیدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

نصیر آباد کے پولیس افسر مجاہد اکبر نے بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کی سرحد کے قریب پلیدی چوکی پر دو پولیس اہلکار تعینات تھے جنہیں پانچ سے چھ مسلح افراد اغواء کر کے ساتھ لے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ تین اہلکاروں کو اغوا کیا گیا ہے جن کے نام علی خان، صغیر اور غلام یاسین بتائے گئے ہیں۔

نصیر آباد اور قریبی علاقوں میں اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہیں علاقوں سے گزشتہ دنوں ہندو تاجروں کو اغوا کر لیا گیا تھا جنھیں بعد میں مبینہ طور پر بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ادھر ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سنگسیلہ اور قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر رکھا ہے جہاں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز نے بگٹی قبیلے کے دو افراد کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی گزشتہ دنوں فرنٹییر کور کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے بعد کی گئی ہے اور جن لوگوں کو مارا گیا ہے ان کے نام جیوا بگٹی اور رستم بگٹی بتائے گئے ہیں اور وہ ایک وڈیرے کے محافظ تھے ۔ زخمیوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کے جسم پر چھریاں ماری گئی تھیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر سوئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے تین دکانداروں کو اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ان میں ایک دکاندار ایک ہوٹل والا اور ایک بیکری ورکر شامل ہیں۔

یاد رہے گزشتہ روز وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کے ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن روکا دیا گیا ہے لیکن جس وقت وہ کوئٹہ مں کابینہ نے خطاب کر رہے تھے اس وقت بھی ڈیرہ بگٹی سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران کئی مکا نات کو آگ لگا دی ہے۔

ادھر اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے دو روز پہلے سکیورٹی فورسز ک چوکی اور ان کے قافلے پر حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد