BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 September, 2008, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کے غلام نہیں: گیلانی

جنرل کیانی
میں جنرل کیانی سے کہوں گا کہ وہ اپنے تحفظات کے بارے میں پارلیمان کو بتائیں: گیلانی
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کا غلام نہیں ہے کہ اس کی پالسیوں پر عمل کرے۔ سینیٹ سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ بری فوج کے سربراہ سے کہیں گے کہ وہ بلوچستان اور صوبہ سرحد میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں ارکان پارلیمنٹ کو بند اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دیں۔

وزیراعظم نے بھارت کی طرز پر پاکستان میں آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن بنانے کا بھی اعلان کیا۔

ارکان سینیٹ کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں حکومتی کارروائی کی وجہ ایسے حقائق ہیں جن کے بارے میں وہ فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے کہیں گے کہ وہ انکے بارے میں ارکان پارلیمنٹ کو بند اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دیں تاکہ ارکان پارلیمنٹ کو اصل حقائق سے آگاہی ہو۔

’میں جنرل کیانی سے کہوں گا کہ وہ اپنے تحفظات کے بارے میں آپ کو بتائیں اور آپ کو تفصیلی بریفنگ دیں کہ صوبہ سرحد میں اور بلوچستان میں وہ کیا حالات ہیں جن کی وجہ سے کارروائی ضروری ہے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا غلام نہیں ہے کہ اس کی پالسیوں پر عمل کرے لیکن جب قبائلی علاقوں میں ہماری بچیوں کے سکول تباہ کیے جائیں گے اور غریب لوگوں کو قتل کیا جائے گا حکومت کے پاس اس کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

وزارت عظمٰی کا حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم منگل کو پہلی بار سینیٹ کے اجلاس میں آئے تو ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔

وزیراعظم کی آمد کے ساتھ ہی وقفہ سوالات کو مؤخر کر کے ارکان نے ان کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اہم سیاسی مسائل پر ان کی توجہ مبذول کروائی۔

اس موقع پر سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے ارکان کو مختصر خطاب کی دعوت دی گئی جس کے دوران ارکان نے قبائلی علاقوں، صوبہ سرحد کی صورتحال اور معزول ججوں کی عدم بحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

جج ضرور بحال ہوں گے
 میں نے ذاتی طور پر افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے نعرے لگائے اور جلوس نکالے ہیں۔ ایسے میں کسی کو ہماری نیت پر شک کرنے کا حق نہیں، جج ضرور بحال ہوں گے
وزیر اعظم

وزیراعظم نے اپنے طویل خطاب کے دوران پاکستان میں ہندوستان کی طرز پر آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن کے قیام کا بھی اعلان کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ ہر قسم کے سیاسی اور حکومتی اثر سے آزاد ہو گا۔

وزیراعظم نے ارکان سینیٹ کو یقین دلایا کہ جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام معزول جج ضرور بحال ہوں گے کیونکہ انکی بحالی کی مہم میں انہوں نے ذاتی طور پر حصہ لیا تھا اور افتخار چوہدری کے حق میں نعرے لگانے کی پاداش میں ایک رات حوالات میں بھی گزاری۔

’میں نے ذاتی طور پر افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے نعرے لگائے اور جلوس نکالے ہیں۔ ایسے میں کسی کو ہماری نیت پر شک کرنے کا حق نہیں۔ جج ضرور بحال ہوں گے۔‘

سینیٹ کے آج کے اجلاس کی ایک اور خاص بات حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان کو حزب اختلاف میں نشستوں کی الاٹمنٹ تھی۔

سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اجلاس شروع ہونے کے بعد ایوان میں داخل ہوئے تو حزب اقتدار میں اپنی مختص نشست پر بیٹھنے کے بجائے ہال کے بالکل آخر میں ایک خالی نشست پر بیٹھ گئے۔ چئرمین کے استفسار پر اسحٰق ڈار نے کہا کہ انہوں نے کئی روز سے حزب اختلاف کی جانب نشست کے حصول کی درخواست دے رکھی ہے لہٰذا وہ مزید وزیرخزانہ والی نشست پر بیٹھنا نہیں چاہتے۔

چئرمین نے انہیں بتایا کہ انہیں جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد کے ساتھی والی نشست الاٹ کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد