BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنگ بندی، مذاکرات یا صدارتی انتخابات

طالبان
بعض ماہرین جنگ بندی حامی عناصر کی کوششوں کی وجہ ان پر دباؤ بھی قرار دیتے ہیں
پاکستان کے جنگ زدہ قبائلی علاقوں میں حکومت کی جانب سے گزشتہ دنوں ماہ رمضان کی وجہ سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کے اعلان پر پہلی مرتبہ برملا بعض عوامی حلقوں کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

لاہور کے ایک انگریزی اخبار نے اس اہم معاملے پر اپنے اداریے میں ’دہشتگردوں کے لیے رمضان پیکج؟‘ قرار دیا ہے۔ بعض دیگر عناصر بھی اس حکومتی فیصلے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے حکومت ان شدت پسندوں کے خلاف حالیہ لڑائی میں حاصل کی گئی بہتر پوزیشن سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور شدت پسندوں کو دوبارہ سستانے کے علاوہ منظم ہونے کا موقع ملے گا۔

یہ خدشات اپنی جگہ لیکن بعض مذہبی حلقے اور خود قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ اس جنگ بندی کے حق میں ہیں۔ وہ بار بار جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ معصوم لوگوں کو مزید نقصان پہنچانے سے بچا سکیں اور مذاکرات کو ایک اور موقع دے سکیں۔

لیکن بعض ماہرین جنگ بندی حامی عناصر کی کوششوں کی وجہ ان پر دباؤ بھی قرار دیتے ہیں۔ ان قبائلی اراکین اور مذہبی جماعتوں کا ان علاقوں میں گزر بسر ہے، روابط اور تعلقات ہیں۔ ان پر بظاہر شدت پسندوں کا بھی دباؤ تھا جو ان کی خاموشی سے کوئی زیادہ خوش نہیں تھے۔ ایسے اراکین کے لیے اپنے علاقے میں واپس جانا مشکل ہو جاتا اگر وہ لب کشائی نہ کرتے۔

لیکن جو اس بار غیرمعمولی بات دکھائی دے رہی ہے وہ ہے معتدل رائے رکھنے والے حلقوں کی جانب سے اس آپریشن کی بندش پر کھل کر تحفظات کا اظہار۔ اب تک یہ عناصر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اس خاموشی کے ٹوٹنے کی وجوہات کیا ہیں؟

چھ اگست کو باجوڑ میں شروع ہونے والی اس تازہ لڑائی میں میں پہلی مرتبہ سیکورٹی فورسز کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا تھا۔ ان کی جنگی حکمت عملی مختلف تھی۔ شدت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائیاں ماضی میں بےسود ثابت ہوئیں۔ اس مرتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو زیادہ تر فضاء سے ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا رہا جنہیں زمین پر توپوں کی مدد بھی حاصل رہی۔

معلوم نہیں ایسی جنگی حکمت عملی کے بارے میں پہلے کیوں نہیں سوچا گیا؟ یا پھر پہلے اس قسم کی نیک نیتی شامل نہیں تھی جو اب حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے شاید دیکھی جا رہی ہے۔

بے بسی
 مقامی طالبان پر ان کامیاب کارروائیوں کا اثر بھی واضع تھا۔ واہ کینٹ میں خودکش حملوں کے بعد طالبان نے اس قسم کے مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو فضاء کی بجائے زمینی کارروائی کے لیے کہا تھا تاکہ وہ اس کا جواب دے سکیں۔ اس دھمکی سے طالبان کی بےبسی واضع تھی۔

مقامی طالبان پر ان کامیاب کارروائیوں کا اثر بھی واضع تھا۔ واہ کینٹ میں خودکش حملوں کے بعد طالبان نے اس قسم کے مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو فضاء کی بجائے زمینی کارروائی کے لیے کہا تھا تاکہ وہ اس کا جواب دے سکیں۔ اس دھمکی سے طالبان کی بےبسی واضع تھی۔ حکومت کا انتظار کیے بغیر ہی تحریک طالبان کی جانب سے اس علاقے میں یک طرفہ جنگ بندی بھی ان پر کارروائی کے دباؤ کا اشارہ دیتی ہے۔

مقامی طالبان کو تازہ کارروائی کے دوران شدید جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ سرکاری اعدوشمار کے مطابق پانچ سو سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے جن میں کئی سرکردہ رہنماء بھی بتائے جاتے ہیں۔ تاہم خدشہ ہے کہ اس لڑائی میں عام شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں جانوں سے ہاتھ دھوئے ہیں۔

دوسری جانب ان کارروائیوں پر پہلے دن سے گہری نظر رکھنے والے اعلی امریکی فوجی اہلکار بھی تعاریف کر رہے تھی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ بحری جہاز پر ملاقات کے بعد امریکی کمانڈر مائیک مولن نے کہا کہ پاکستانی فوج کا فوکس اب وہیں ہے جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔

صدارتی الیکشن
 حکومت کے لیے چھ ستمبر کی تاریخ بھی انتہائی اہم ہے۔ اس کی کوشش اور خواہش ہے کہ صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کو اب بلامقابلہ تو منتخب نہیں کرواسکتی لیکن زیادہ سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب ضرور کروانا ہے۔ اس کے لیے ایک ایک ووٹ اہم ہے۔

اس کامیاب حکمت عملی کا ایک عنصر فوج کا حکومت کو ’لیڈ‘ رول دینا بھی کہا جاسکتا ہے۔ ماضی کے برعکس فوج نے جنگ بندی کرنے یا نہ کرنے کا مکمل اختیار حکومت کو دیا ورنہ پہلے تو مقامی اہلکار امن مذاکرات میں مصروف ہوتے تھے کہ فوج بغیر کسی کو بتائے حملہ کر دیا کرتی تھی۔ اس سے امن کوششوں کو شدید دھچکہ لگتا تھا۔

ایسی مثبت پیش رفت میں اچانک جنگ بندی کے اعلان سے اکثر لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے۔

حکومت کے لیے چھ ستمبر کی تاریخ بھی انتہائی اہم ہے۔ اس کی کوشش اور خواہش ہے کہ صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کو اب بلامقابلہ تو منتخب نہیں کرواسکتی لیکن زیادہ سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب ضرور کروانا ہے۔ اس کے لیے ایک ایک ووٹ اہم ہے۔ قومی اسمبلی میں دس اور سینٹ میں پانچ اراکین فاٹا کے ووٹ اس اعتبار سے کافی اہم تھے۔ حکومت کو لہٰذا جنگ بندی کرنی پڑی۔

لیکن غالب آثار یہی ہیں کہ چھ ستمبر کے بعد موجودہ حکومت کی کوئی ایسی کمزوری نہیں رہے گی۔ مشیر داخلہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شدت پسندوں کی ایک گولی کا جواب دس گولیوں سے دیا جائے گا۔ لیکن لوگوں کو خدشہ یہ ہے کہ جو ایک مثبت ٹیمپو عارضی جنگ بندی سے قبل بنا تھا وہ دوبارہ بن پائے گا یا نہیں۔

طالبان مخالف عوام
قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
طالبان سے بات چیت
مذاکرات سے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آ رہے
طالبان(فائل فوٹو)’قبائلی رپورٹنگ‘
’طالبان صرف ایک بار پیار سے تنبیہ کرتے ہیں‘
طالبان’معاہدے اپنی جگہ‘
افغانستان میں جہاد جاری رہے گا: طالبان
طالبان سے مفاہمت کی کوشش (فائل فوٹو)مفاہمت کہاں تک؟
طالبان سے مفاہمت کی بیل منڈھے چڑھے گی؟
طالبان’حملہ آور کم نہیں‘
طالبان کی ’سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمینٹ‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد