آرچ بشپ پر تنقید کا سلسلہ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں اسلامی قوانین کے متعارف کرانے کے حوالے سے بیان دینے پر چرچ آف انگلینڈ کے لیڈر آرچ بشپ ڈاکٹر روون ولیئم پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ آرچ بشپ ڈاکٹر روون ولیم نے دو روز قبل برطانیہ میں کچھ اسلامی قوانین کو متعارف کرانے کی تجویز دی تھی جس پر بے انتہا تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا اور کچھ حلقوں نے آرچ پشپ سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ چرچ آف انگلینڈ کے لیڈر نے کچھ روز پہلے برطانیہ میں کچھ اسلامی قوانیں کو شامل کرنے کی بات کر کے اپنے اوپر کا تنقید ایک ایسا سلسلہ شروع کروا لیا جو اب یورپ سے نکل کر دوسرے براعظموں میں بھی پھیل چکا ہے۔ لاطینی امریکہ کے اینگلیکن آرچ بشپ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر روون ولیم کی قیادت کا معیارگر چکا ہے۔ ڈاکٹر روون ولیئم کے پیش رو لارڈ کیری بھی اسی بحث میں کود پڑے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ البتہ لارڈ کیری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر روون سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ آرچ بشپ ڈاکٹر روون ولیئم نے اپنے بیان کی وضاحت کی بھی کوشش کی ہے لیکن تنقید کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ آرچ بشپ پیر کے روز اینگلیکن چرچ کی اسمبلی کا سامنا کریں گے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں آرچ بشپ کےاسلام قوانین کے بارے میں بیان کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔ آرچ بشپ آف کینٹبری کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ ملک میں متوازی نظام عدل قائم کر دیا جائے اور انہوں نےصرف یہ کہا ہے کہ شادی اور مالیات جیسے معاملات میں اسلامی قوانین کی جگہ موجود ہے۔ برطانیہ کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے خود کو آرچ بشپ کے اِس بیان سے فاصلے پر رکھا ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم سمجھتے ہیں کہ برطانوی قانون کی بنیاد برطانوی اقدار پر ہونی چاہیے۔ برطانیہ کی اپوزیشن جماعت ٹوری نے کہا ہے کہ آرچ بشپ کے ریمارکس ’معاون نہیں‘ جبکہ اپوزیشن کی ہی ایک اور جماعت لب ڈیم کہتی ہے کہ برطانیہ میں ہر کسی کو ہر قیمت پر قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر روون نے کہا کہ برطانیہ کو ’اس امر کا سامنا کرنا چاہیے‘ کہ کچھ شہری خود کو برطانیہ کے قانون سے منسلک نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی شریعہ کے قانون کے کچھ حصے اختیار کرنے سے برطانیہ میں سماجی ارتباط میں مدد ملے گی۔ بعض برطانوی سیاستدانوں کی رائے میں دو طرح کے قوانین ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ اس سے افراتفری بڑھے گی۔ حزبِ اختلاف کی ایک رہنما بیرنس وراثی کا کہنا تھاکہ آرچ بشپ کی رائے ’معاون نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دو متوازی نظام رکھ کر لوگوں کوکسی ایک کو اختیار کرنے کا حق دینا نا قابلِ قبول ہے۔ تاہم رمضان فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر محمد شفیق ڈاکٹر ولیئم کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ’اس سے ہمارے دونوں مذاہب کے عقائد کی جانب سے احترام اور برداشت کی کوششوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔‘ | اسی بارے میں ’برطانیہ میں چند اسلامی قوانین‘08 February, 2008 | آس پاس نقاب پر بحث میں چرچ بھی شامل15 November, 2006 | آس پاس برطانیہ کے چرچ20 July, 2005 | آس پاس ’اپنی مشکلوں کے خودذمہ دار،یہودی‘11 March, 2007 | آس پاس پوپ کی حمایت میں ہزاروں کا مجمع20 January, 2008 | آس پاس چرچ مالی طور پر بھی دیوالیہ ہو گیا07 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||