 | | | یہودیوں کو کئی مشکلات کا سامنا اس لیے بھی کرنا پڑتا ہے کہ ان کی روایات اور پس منظر مختلف ہے |
سابق برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کا خیال تھا کہ یہودیوں کو جو مصیبتیں اٹھانی پڑ رہی ہیں ان میں خود ان کا بھی ہاتھ ہے۔ اس کا اظہار انہوں نے ایک مضمون میں کیا تھا جو دوسری جنگِ عظیم سے پہلے لکھا گیا تھا۔ ایک برطانوی تاریخ داں ڈآکٹر رچرڈ ٹوئی کے مطابق جنگ کے دور میں برطانیہ کی قیادت کرنے والے اس رہنما کا کا خیال تھا کہ یہودیوں کو کئی مشکلات کا سامنا اس لیے بھی کرنا پڑتا ہے کہ ان کی روایات اور پس منظر مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودی دوسرح معاشروں میں ضم نہیں ہوتے اور اس سے گریز کرتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں ان ملکوں میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں جہاں انہیں قانون کی نظر میں برابری کا مقام حاصل ہے اور اس کے لیے وہ برطانیہ اور امریکہ کی مثال دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سابق برطانوی وزیرعظم یہودی قوم کی تعریف بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہودی محنتی اور قانون کا پاس کرنے والے ہوتے ہیں۔
 | یہودیوں کا ساتھ دینے کی اپیل  انہوں نے برطانوی قوم سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ یورپ میں یہودیوں کے خلاف جو لہر آئی ہوئی ہے برطانویوں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے  |
برطانوی وزیر اعظم نے یہ مضمون1937 میںب برطانیہ کی قیادت سنبھالنے سے تین سال پہلے، ’یہودی کس طرح اپنے استحصال کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘ کے عنوان سے لکھا تھا۔اس میں انہوں نے برطانوی قوم سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ یورپ میں یہودیوں کے خلاف جو لہر آئی ہوئی ہے برطانویوں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ |