BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 February, 2008, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطانیہ میں چند اسلامی قوانین‘
 ڈاکٹر ولیئم روون
تمام بڑی جماعتوں نے خود کو ڈاکٹر ولیئم کے خیالات سے پرے رکھا ہے
چرچ آف انگلینڈ کے لیڈر نے کہا ہے کہ اُن کے خیال میں برطانیہ کے چند علاقوں میں کچھ اسلامی قوانیں کو شامل نہ کرنا اب ممکن نہیں۔

آرچ بشپ آف کینٹبری، روون ولیئم نے کہا کہ اُن کے خیال میں شادی اور مالیات جیسے معاملات میں اسلامی شریعت کی جگہ موجود ہے۔

تاہم برطانیہ کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے خود کو آرچ بشپ کے اِس بیان سے فاصلے پر رکھا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم سمجھتے ہیں کہ برطانوی قانون کی بنیاد برطانوی اقدار پر ہونی چاہیے۔

یہاں کی اپوزیشن جماعت ٹوری نے کہا ہے کہ آرچ بشپ کے ریمارکس ’معاون نہیں‘ جبکہ اپوزیشن کی ہی ایک اور جماعت لب ڈیم کہتی ہے کہ برطانیہ میں ہر کسی کو ہر قیمت پر قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر روون نے کہا کہ برطانیہ کو ’اس امر کا سامنا کرنا چاہیے‘ کہ کچھ شہری خود کو برطانیہ کے قانون سے منسلک نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی شریعہ کے قانون کے کچھ حصے اختیار کرنے سے برطانیہ میں سماجی ارتباط میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے بعض مسلمان اپنے ازدواجی قضیوں یا مالیات سے متعلق مسائل کا حل شرعی عدالت سے کروانا چاہیں۔

تاہم برطانوی وزیرِ اعظم کے ترجمان نے کہا کہ شرعی قانون کو برطانوی قانون توڑنے کے جواز کے طور کبھی استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نہ سِول معاملات میں شرعی قانون کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔

بعض برطانوی سیاستدانوں کی رائے میں دو طرح کے قوانین ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ اس سے افراتفری بڑھے گی۔

حزبِ اختلاف کی ایک رہنما بیرنس وراثی کا کہنا تھاکہ آرچ بشپ کی رائے ’معاون نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دو متوازی نظام رکھ کر لوگوں کوکسی ایک کو اختیار کرنے کا حق دینا نا قابلِ قبول ہے۔

تاہم رمضان فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر محمد شفیق ڈاکٹر ولیئم کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ’اس سے ہمارے دونوں مذاہب کے عقائد کی جانب سے احترام اور برداشت کی کوششوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد