BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 February, 2008, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعودی عرب کا جہادی اصلاحی پروگرام

جہاد
سعودی حکام کئی ہزار نوجوانوں کو تربیت دے رہے ہیں۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کو جہادیوں کی اصلاح، دوبارہ تربیت اور عراق میں جہاد کے لیے جانے سے روکنے میں بہت کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔

خاص طور پر بنی نئی جیلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی حکام کئی ہزار نوجوانوں کو تربیت دے رہے ہیں جو کہ بصورت دیگر غیرملکیوں اور دیگر اہداف پر حملے کرنے کا سوچیں گے۔

کسی بھی ملک میں نئی جیلوں کی تعمیر کوئی خوش آئند بات نہیں۔ لیکن سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان نوجوانوں کو پر تشدد جہاد سے باز رکھنے میں حکام کو ستر فیصد کامیابی ہوئی ہے۔

اس پروگرام کو سعودی عرب میں القاعدہ کے حملوں کے بعد تیار کیا گیا تھا۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ پر حملے میں زیادہ تر ہائی جیکرز سعودی تھے اور امریکن کمانڈروں کا کہنا ہے کہ عراق میں بھی زیادہ تر سعودی جنگجو ہیں۔

یمن میں بھی اسی طرز پر پروگرام ہے لیکن فرق اتنا ہے کہ سعودی عرب میں یہ پروگرام اثر و رسوخ رکھنے والی وزارتِ داخلہ چلا رہی ہے اور اس پروگرام کو وزیرِ داخلہ کے بیٹے شہزادہ محمد بن نائف چلا رہے ہیں۔

اس اصلاحی پروگرام کے حکام کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ جس کو چاہیں جیل میں پھینک دیں اور جس کو چاہیں ایک اور موقع دے دیں۔

اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کی اصلاح کے بعد حکومت ان کی ہر ممکن امداد کرتی ہے کہ وہ کاروبار، نوکری اور شادی کر کے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

گلف ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مصطفیٰ الانی کا کہنا ہے ’اس سکیم کے تحت تین ہزار جنگجوؤں کی اصلاح پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان سخت موقف رکھنے والے جہادی نہیں ہیں لیکن القاعدہ کے اثر میں ہیں اور جنگجو بن سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر الانی نے مزید کہا کہ یمن میں بھی اسی طرز پر سکیم ناکام ہو گئی ہے اور ستر فیصد اصلاح کیے گئے جہادی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ جب کہ سعودی عرب میں یہ تناسب پانچ سے سات فیصد ہے۔

 اس سکیم کے تحت تین ہزار جنگجوؤں کی اصلاح پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان سخت موقف رکھنے والے جہادی نہیں ہیں لیکن وہ ہیں جو کہ القاعدہ کے اثر میں ہیں اور جنگجو بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر مصطفیٰ الان

اس پروگرام کا مقصد ان جہادیوں کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ جس اسلام کو لے کر چل رہے ہیں وہ اصل اسلام نہیں ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ان جہادیوں کو مذہب اور مذہبی تہذیب کا درس دیا جاتا ہے۔ یہ درس علماء، مولانا اور ماہرِ نفسیات دیتے ہیں۔

ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلام میں پرتشدد جہاد کی اجازت نہیں اور صرف اس صورت میں اجازت ہے جب ریاست اور جہادی کے والدین کی اجازت ہو۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اسی کی دہائی میں روسیوں سے لڑنا جہاد تھا لیکن عراق میں جانا جہاد نہیں ہے۔

لیکن اس سکیم کے کچھ مخالفین بھی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رہا ہونے کے بعد یہ جہادی جن میں گوانتانامو کے سابق قیدی بھی شامل ہیں نئے حملوں کا منصوبہ بنائیں گے۔

ایک جہادی رہنماء عبدالعزیز المُکرن کو قبل از وقت رہا کیا گیا تھا۔ وہ القاعدہ کا نیا رہنما بن گیا اور آخر میں اس کو دو ہزار چار میں سعودی حکام نے ایک آپریشن کے دوران مار دیا۔

دوسری طرف کچھ سعودی شہری اس پروگرام سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو کہ پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔

لندن میں موومنٹ فار اسلامک ریفارم کے رہنما ڈاکٹر شعد الفقیح کا کہنا ہے کہ حکومت اپنا اسلام مسلط کر رہی ہے اور بحث کی گنجائش نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے بارہ ہزار لوگ پکڑے ہوئے ہیں اور کسی صورت بھی اس پروگرام کی کامیابی کو سائنسی طریقے سے معلوم نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عربعراقی مزاحمت جائز
سعودی علماء نے عراقی مزاحمت کو جائز قرار دیا ہے۔
غیر مسلم سیاحت
غیرمسلم سیاح سعودی عرب جا سکیں گے
9/11 تبدیلی کا اشارہ
سعودی عرب کے روایتی نظام میں تبدیلیوں کا آغاز
سعودی عربغلامی آج بھی ہے
سعودی عرب: غیرملکیوں کی زندگیاں اجیرن
سعودی ’جہاد‘
پیسہ کہاں سے آتا ہے اور کہاں چلا جاتا ہے
شادیوزیرا کس کی بیوی؟
پاکستانی خاتون کی شادی اور پھر خلع کی کہانی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد