سعودی عرب: وزیرا کس کی بیوی ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں ان دنوں پاکستان کی ایک خاتون کی کہانی اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اس کہانی کی ابتداء بیس سال قبل اس وقت ہوئی جب وزیرا نامی لڑکی کے والد نے اس کے رشتے کے لیے زہریا نامی لڑکے کو زبان دی کہ جیسے ہی لڑکی شادی کی عمر کو پہنچے گی اس کی شادی اس سے کردی جائے گی۔ اس رشتے کے عوض لڑکی کے والد نے پینتیس ہزار سعودی ریال بطور جہیز کی رقم کے اس لڑکے سے دو عینی شاہدین کی موجودگی میں لیے۔ اس بات کے کچھ عرصے بعد زہریا پاکستان چلا گیا۔دوسری طرف جب وزیرا جوان ہوئی تو وہ علی نامی ایک لڑکے کی محبت میں مبتلا ہو گئی۔ اس کے والد نے اسے زہریا سے کیا اپنا وعدہ یاد دلایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ اس رشتے کے عوض رقم بھی لے چکا ہے لیکن وزیرا نے اس کی ایک نہ سنی اور علی سے شادی کرلی۔ علی سے شادی کے بعد ان کےیہاں دو بچے نجف اور نیف ہوئے۔ اس شادی کے پانچ سال بعد زہریا واپس لوٹ آیا تو اسے علم ہوا کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کی شادی کسی اور کے ساتھ ہو گئی ہے۔ اس واقعے کے ادراک کے بعد ہی اس نے علی اور وزیرا کی شادی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کردیا اور شریعت کورٹ میں اپنی بیوی کی تحویل کے لیے درخواست دائر کی۔ عدالت نے علی اور وزیرا کی شادی کو مسترد کرتے ہوئے وزیرا کو حکم دیا کہ وہ علی کو چھوڑ دے۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی عدالت نے بھی اس فیصلے کی توثیق کی۔ وزیرا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جسے شریعہ کی اعلی عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وزیرا نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ قانونی طور پر ناکافی ہیں۔ آخر میں اس نے اپنے پہلے شوہر زہریا سے خلع کے لیے درخواست دائر کی۔ کئی پیشیوں کے بعد عدالت نے وزیرا کو کہا کہ وہ خلع سے پہلے زہریا سے لیا پیسہ واپس کرے۔ تیرہ دسمبر کو اس کیس کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کی گئی لیکن اس وقت تک چونکہ وزیرا یہ رقم جمع نہیں کر سکی تھی چنانچہ عدالت نے سماعت اس وقت تک کے لیے ملتوی کردی جب تک کہ اپنی آزادی کے لیے وہ متعلقہ رقم جمع نہیں کر لیتی۔ اسی دوران زہریانے وزیرا کے والد کےخلاف ایک اور کیس داخل کیا جس میں اس نے انہیں اس کی غیر موجودگی میں وزیرا کی شادی کسی اور سے کرنے کا مجرم ٹھرایا۔ اس تمام قصے میں زہریا کے خلاف جو بات جاتی ہے وہ اس کی اتنی طویل غیر حاضری ہے اور شاید عدالت اس بنیاد پر وزیرا کے خلع کے مقدمے کی اپیل پر غور کر لے۔ اب اس غریب لڑکی کا عجیب حال ہے کہ وہ دو افراد کی بیوی ہے یا ان میں سے کسی کی نہیں۔ آخر وہ کس کی بیوی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ | اسی بارے میں پسند کی شادی پر نیم برہنہ گشت31 October, 2005 | پاکستان پشاور:زلزلہ زدگان کی اجتماعی شادی17 December, 2005 | پاکستان خیموں میں شادیوں کی جلدی کیا؟26 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||