جہاد اور سعودی عرب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ نگار راجر ہارڈی نے اسلام کے ایک فرقہ وہابیت پر کافی تحقیق کی ہے۔ اس فرقے پر اس کے سخت گیر موقف کی وجہ سے الزام ہے کہ وہ دنیا میں مذہبی انتہا پسندی کے لیے رقم فراہم کرتا رہا ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ میں بی بی سی کے تجزیہ نگار ان امریکیوں سے ملے ہیں جن کے ذمہ سعودی عرب سے بھیجے گئے فنڈز کی کھوج لگانا ہے کہ وہ کہاں خرچ ہوتے ہیں۔ ’گیارہ ستمبر کے حملے کے ایک برس بعد امریکی انتظامیہ نے شکاگو ميں واقع سعودی امدادی تنظیم کو بند کر دیا تھا۔ شکاگو کے ایک اخبار ’شکاگو ٹریبیون‘ کے لیے رپورٹ کرنے والے تحقیقاتی صحافی سیم رؤ کا کہنا ہے کہ ’یہ قدم ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا‘۔ اس کے لیے اس وقت کے امریکی اٹارنی جنرل جان ایشکرافٹ نے شکاگو آ کر ایک نیوز کانفرنس کی تھی اور اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پہلی بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ بنوولنس فاؤنڈیشن نامی تنظیم ایک امدادی تنظیم تھی۔ شکاگو میں اس کا قیام عدیل بیٹرجی نامی ایک امیر تاجر نے ایک دہائی قبل کیا تھا لیکن جلد ہی انہوں نے اسے چلانے کی ذمےداری اپنی قریبی شام سے تعلق رکھنے والے ساتھی انعام اراناٹ کو دے دی تھی۔ ان دونوں لوگوں کی ملاقات 1980 میں افغانستان میں ہوئی تھی جب وہ لوگ روس کی فوج کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کی مدد کر رہے تھے۔ اس تنظیم پر امریکہ کو 1990 میں شک ہوا لیکن یہ شک 9/11 کے بعد جنون میں تبدیل ہو گیا۔ اور اس معاملے پر امریکہ کی اٹارنی پیٹرک فزجرلڈ نے اس تنظیم کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔ شکاگو کی ایک سرکاری عمارت میں مجھے مسٹر فزجرلڈ نے بتایا کہ کس طرح سے اور کب انہيں یہ یقین ہوا کہ بنیولنس فاؤنڈیشن القاعدہ کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کے بوسنیا کے دفترسے موصول کیے گئے دستاویزات میں القاعدہ کی میٹنگز، اس کے ارکان اور ہتھیاروں کی فراہمی کے ثبوت ملے تھے۔
لیکن تمام شک و شبہات کے باوجود امریکہ تنظیم پر دہشتگردی سے متعلق الزامات عائد نہیں کر سکا۔ مسٹر اراناٹ کے مقدمے کی سماعت کے دوران اٹارنی نے ان سے ایک معاہدہ کیا۔ مسٹر اراناٹ کو مخبری کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ امریکہ تنظیم کو بند کرنے میں تو کامیاب ہو گیا لیکن وہ ثابت نہيں کر سکا کہ تنظیم کے تار القاعدہ سے جڑے تھے۔ جب مسٹر اراناٹ جیل میں تھے تو ان کے سابق مالک عدیل بیٹرجی سعودی عرب میں عیش کی زندگی گزار رہے تھے۔ تمام کوششوں کے باجود میں اراناٹ سے ان کا موقف نہیں جان سکا۔ ایک بار میں نے فون پر ان سے بات کی لیکن انہوں نے انٹرویو دینے سے انکار کر دیا۔ 2004 میں امریکہ کے شہر واشنگٹن میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس ميں سعودی حکومت نے اپنے مشہور امدادی ادارے الحرمین کی پانچ شاخیں بند کرنے کا اعلان کیا لیکن بعد میں اس کی نیدرلینڈ اور انڈونیشیا میں واقع دس شاخیں یہ کہہ کر بند کر دی گئيں کہ وہ دہشتگردی کو فروغ دینے کے لیے امداد فراہم کرتے ہیں۔
الحرمین کا قیام 1990 میں ہوا تھا اور اس تنظیم کا سعودی حکومت سے گہرا تعلق تھا۔ تنظیم کی پوری دنیا میں پچاس شاخیں تھیں۔ تنظيم کا دعوی ہے کہ اس نے پوری دنیا ميں کئی سو مسجد کی تعمیر کے علاوہ یتیم خانے اور ہسپتال بنوائے ہيں۔ ریاض ميں میری ملاقات اس شخص سے ہوئی جس نے اوریگان ميں الحرمین کی ایک شاخ کھولی تھی۔ آج پولیس کو اس کی تلاش ہے۔ سلیمان ال بوٹھی نے مجھے بتایا’ میں کبھی اسامہ سے نہیں ملا‘۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ اسلام کے عدم تشدد کے پیغام کو پھیلا رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی تنظيم کے خلاف کبھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے ہيں۔ لیکن ایف بی آئی کے تفتیشی اہلکار ڈینس لارمل کا کہنا ہے کہ جو ثبوت ملے تھے وہ اس بات پر مجبور کرتے تھے کہ تنظيم کا القاعدہ سے تعلق ہے۔ امریکہ کی دو سال کی کوششوں کے بعد سعودی عرب نے تنظیم کے خلاف قدم اٹھایا۔ واشنگٹن میں سعودی عرب کے مشیر عدیل جبیر نے بتایا کہ سعودی حکومت ملک سے باہر واقع شاخوں کے لیے ذمےدار نہیں تھا۔ ان دونوں کیسز سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے لیے اپنے شک کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہيں ہے۔ یہ بھی چوکانے والی بات ہے کہ ان دو معاملات کے علاوہ امریکہ میں دیگر مسلم امدادی تنظیموں پر دہشتگردی کا کوئی الزام نہیں ہے۔ لیکن ایک بات یہ بھی ظاہر ہے کہ کئی برسوں سے سعودی عرب کی امدادی تنظیمیں کسی باقاعدہ نگرانی کے بغیر چل رہی تھیں۔ | اسی بارے میں ’القاعدہ ٹوٹنے کے بجائے زیادہ منظم‘11 September, 2007 | آس پاس رشدی کے خطاب پر حملوں کی دھمکی10 July, 2007 | آس پاس عراق میں القاعدہ رہنما ’زخمی‘16 February, 2007 | آس پاس ’سیکولر انتخابات حل نہیں ہیں‘20 December, 2006 | آس پاس القاعدہ کے امریکی رکن پر مقدمہ12 October, 2006 | آس پاس الجزیرہ پر اسامہ بن لادن کا نیا وڈیو 07 September, 2006 | آس پاس القاعدہ کارروائیوں میں اضافہ16 November, 2005 | آس پاس عراق: الزرقاوی کا نائب ہلاک27 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||