اسلام و عیسائیت: قربت کی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی کے دارلحکومت روم میں جمعرات کو مسلمانوں اور رومن کیتھولک عیسائیوں کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات شروع ہو رہی ہے۔ یہ ملاقات پوپ بینیڈکٹ کے اُس یونیورسٹی لیکچر کے دو سال بعد ہو رہی ہے جس میں انہوں نے تاریخی طور اسلام کا تعلق تشدد سے جوڑا تھا۔ اس ملاقات کا مقصد عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کے رہنما پوپ بینیڈیکٹ کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ دنیا کے دو بڑے مذاہب اسلام اور عیسائیت کا ماخذ اور کئی اِقدار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مسلمانوں کا یہ اعلی سطح کا وفد پوپ کو ایک خط بھی پیش کرے گا جسے ’مشترکہ لفظ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اِس خط میں قرآن کی وہ آیا ت بھی شامل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اِن دو مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے سے دوستی روا رکھنی چاہیے۔ خاص طور پر اِس خط میں یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کو وہی سچائی بتائی گئی جو پہلے یہودیوں اور عیسائیوں پر اتاری جا چکی تھی۔ ایک منشور کا درجہ رکھنے والے اِس خط کی اسلامی طریقے کے مطابق ایک سال تک مختلف مسلمان مذہبی رہنماؤں سے تجدید کروائی گئی اور اب اِس خط کو کم و بیش تین سو سنی، شیعہ صوفی اور دیگر اسلامی مسلکوں سے تعلق رکھنے والے علماء کی حمایت حاصل ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی اِس کوشش کی حمایت فوری طور پر کئی عیسائی رہنماؤں نے کی جن میں کلیسائے انگلستان فرقے کے رہنما آرچ بشپ آف کنٹربری روون ولیمز بھی شامل ہیں۔
رومن کیتھولک عیسائیوں کے مرکز ویٹیکن کا ردعمل دنیا کے اِن دو بڑے مذاہب میں مشترکہ عوامل کی نشاندھی پر خاصہ محتاط رہا تاہم ویٹیکن پہلے سخت مذہبی خیالات رکھنے والے اسلامی ممالک سے اسقاط حمل اور جنسی مساوات کی مخالفت کے لیے تعاون کرچکا ہے۔ امریکہ پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دھشت گرد حملوں کے بعد سے مسلمان رہنما مسلسل عیسائیوں سے نئے روابط قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جمعرات کو پاپائے روم سے ملنے والے مسلمانوں کے اِس اعلی سطح کے وفد میں مفتی اعظم بوسنیا، ایران کے ایک آئت اللہ، اردن کے ایک شہزادے اور چند برطانوی نو مسلم بھی شامل ہونگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||