BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 November, 2008, 04:45 GMT 09:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بین المذاہب کانفرنس کا اختتام

جارج بش
کانفرنس سے امریکہ کے صدر جارج بش نے بھی خطاب کیا
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی میں بین المذاہب پر ہونے والی دو روزہ کانفرنس اختتام کو پہنچی ہے جس پر ایک مشترکہ قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں مذاہب کے نام پر معصوم لوگوں کے خون بہانے اور دہشتگردی اور تشدد کی مذمت کی گئي ہے۔

یہ قرارداد جمعرات کی شام کانفرنس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل کے ساتھ یو این میں ایک مشترکہ کانفرنس میں پڑھ کر سنائي۔

کانفرنس میں بین المذاہب مکالمے کے تجویز کنندہ سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ، امریکہ کے صدر جارج بش، پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، افغانستان کے صدر حامد کرزئي، اور اسرائیل کے صدر شمون پیریزسمیت ستر ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور سفیر شرکت کر رہے تھے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی مذہب بیگناہ لوگوں کا خون بہانے اور دہشتگردی اور تشدد کی اجازت نہیں دیتا اور کانفرنس کے شرکاء نے تمام مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والی اقلیتیوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک، عدم برداشت ، نفرت انگيز اظہار، اور انہیں ہراساں کیے جانے کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام انسانوں، مختلف مذاہب و عقائد اور تہذیبوں کے درمیاں مکالمے ، رواداری، برداشت اور مفاہمت کی اہمیت پر زور دیا۔

قرارداد میں کہا گيا ہے کہ جنرل اسمبلی تہیہ کرتی ہے کہ مختلف مذاہب و عقائد کے درمیاں رواداری اور مکالمے اور امن کی ثقافت کی ترویج عام کرنے اور انسانی حقوق کے احترام قائم کرنے کیلیے مذہبی رہنمائوں، سول سوسائٹی اور ممالک کی طرف سے کی جانیوالی کوششوں کی حمایت اور حوصلہ افزائي کی جاۓ گي۔

یہاں یہ دلچسپ امر ہے کہ مکالمہ بین المذاہب یا ثقافت امن کی تجویز کندہ سعودی عرب کے خلاف عالمی شہرت کی انسانی حقوق کی تنظیمیں خود سعودی عرب کے اندر مذہبی اقلیتوں اور عورتوں کے حقوق کی پامالی کی رپورٹیں جاری کرتی رہی ہیں۔

جب ایک صحافی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل سے سوال کیا کہ کیا وہ رواداری اور مذہبی اقلتیوں کوحقوق خود سعودی عرب کے اندر بھی دیں گے تو پرنسٹن یونیورسٹی امریکہ کے گریجویٹ پرنس سعود الفیصل نے کہا ’جب مکہ اور پھر میڈرڈ میں بین المذاہب پر مکالمہ امن کی تجویز آئي تھی تو یہ طے کیا گيا تھا کہ نظریات کو اپنی جگہ چھوڑ کر کم از کم مکالمے کیلیے مختلف مذاہب و عقائد کے لوگ ایک جگہ مل کر بیٹھ سکتے ہیں۔‘

شہزادہ سعود الفیصل سعود عرب میں اصلاحات اور جدیدیت کے عملبرداار سمجھے جاتے ہیں جنکی سعودی حکومت اور قدامت پرست حلقوں میں مخالفت پائي جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ کو انکے بین المذاہب کے درمیان مکالمۂ امن کی کے تجویز اور مختلف مذاہب و عقائد اور ثقافتوں کے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کاوشوں پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

بن لادن فائل فوٹوصد سالہ جنگ
انسدادی جنگ تیس سے سو سال چل سکتی ہے
ترکِ اسلام کی سزا
اسلام چھوڑنے والوں پر کیا گزرتی ہے؟
قرآن احادیث پر تحقیق
ترکی میں احادیث کی از سر نو تشریح کا کام
جہادیاصلاحی پروگرام
جہادیوں کوعراق سےدور رکھنےکا سعودی طریقہ
آرچ بشپ ڈاکٹر روون ولیئم برطانیہ میں شریعت
چرچ آف انگلینڈ کے لیڈر کو شدید تنقید کا سامنا
 آصف زرداری آگے سیاست ہے
یہاں سے آگے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی نظریہ۔
صدر مشرفہمیشہ نایاب چیز
صدر مشرف، اخلاقی برتری اور کاٹھ کا گھوڑا
اسی بارے میں
امریکہ کے غلام نہیں: گیلانی
02 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد