BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 November, 2008, 00:20 GMT 05:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسامہ القاعدہ میں فعال نہیں رہے‘
اسامہ بن لادن
اسامہ بن لادن پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں کہیں روپوش ہیں: ہیڈن
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کہا ہے کہ اگرچہ اسامہ بن لادن اب القاعدہ کی معمول کی کارروائیوں سے علیحدہ رہتے ہیں لیکن پھر بھی یہ تنظیم امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

جمعرات کو اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ’اگر ان کے ملک پر کوئی بڑا حملہ ہوا تو اس میں القاعدہ کا ہاتھ ہو گا۔‘

سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے کہا کہ سعودی شدت پسند شاید پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں کہیں روپوش ہیں۔

’حقیقت میں، ایسا لگتا ہے کہ وہ جس تنظیم کے سربراہ ہیں اس کے معمول کے آپریشنوں سے وہ زیادہ تر علیحدہ ہی رہتے ہیں۔‘

ہیڈن نے کہا کہ بن لادن اپنی بقا کے لیے بہت زیادہ کوشش کر رہے ہیں اور ان کی گرفتاری امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔

مائیکل ہیڈن
ابھی بھی امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ القاعدہ سے ہے

’ان (اسامہ) کی موت اور گرفتاری کا ان کے ماننے والوں پر بہت اثر ہو گا، القاعدہ کے سرگرم کارکنوں اور پوری دنیا کے شدت پسندوں پر چاہے وہ اس کے کارکن نہ بھی ہوں۔‘

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ القاعدہ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ابھی بھی پھیل رہی ہے۔

سی آئی اے کے مطابق فلپائن، سعودی عرب، انڈونیشیا اور عراق میں القاعدہ کی کارروائیوں کو روکنے میں کامیابی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
علی حمزا کو عمر قید کی سزا
04 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد