القاعدہ کے حامیوں کی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے کچھ سخت گیر حامیوں کو یہ فکر لاحق ہوتی جارہی ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے اس خطے میں القاعدہ کا کنٹرول کم ہوجائے گا۔ افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ افغانستان حکومت کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہیں۔ تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اسی ماہ فریقین کے درمیان سعودی عرب میں ملاقات ہوئی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات ہوئے ہیں یا نہیں۔ لیکن دہشت گرد تنظیموں کی ویب سائٹوں پر ہونے والی بات چیت سے لگتا ہے کہ القاعدہ کے کچھ حلقوں میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ تو کیا طالبان افغان حکومت میں شمولیت کے لیے اپنے پرانے ساتھیوں یعنی القاعدہ کا ساتھ چھوڑ دیں گے؟ طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہوگا لیکن القاعدہ کے بعض حلقوں میں پریشانی بڑھ رہی ہے۔ القاعدہ کے سخت گیر حلقوں کو لگتا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے مشرق وسطیٰ اور مسلم ملکوں سے مغربی افواج کو نکالنے کی ان کی جہاد کی تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ سخت گیر حلقے طالبان اور افغان حکومت کی بات چیت کو فتنہ قرار دے رہے ہیں۔ جہادی ویب سائٹوں پر گزشتہ چند دنوں سے جہاد کے حامی افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی رپورٹوں کی اہمیت کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ملا عمر اور طالبان عراقیوں کی طرح جہاد کو ترک نہیں کریں گے۔‘ جبکہ ان کے کچھ ساتھی کہتے ہیں: ’مجاہدین کو باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ ایک اہم خلیجی ملک بیداری کے منصوبے کو پاکستان اور افغانستان میں آزمانا چاہتا ہے۔‘ بیداری کے منصوبے سے ان کی مراد امریکی اور عراقی حکومت کے پیسے اور فوج سے عراق میں القاعدہ کے خلاف بعض قبائل کی تحریک سے ہے۔ جبکہ ایک اہم خلیجی ملک سے ان کی مراد سعودی عرب ہے جس نے حال ہی میں طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کروائی ہے۔ ویب سائٹوں پر شائع ہونے والی بات چیت میں جہاد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنے محافظ امریکہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا کام کررہا ہے، جس کے لیے وہ مزاحمت کاروں کو سیاسی عمل میں لانا چاہتا ہے۔ جہاد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں ناکام ہوگیں۔ ایک عربی ویب سائٹ پر جہاد کے ایک حامی نے ان خیالات کا اظہار کیا کہ یہ طالبان کے خلاف یہ ایک گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے۔ اس کا کہنا تھا: ’بھائیو، پریشان نہ ہو۔ طالبان اس طرح کے لوگ نہیں ہیں جو اقتدار کے بدلے میں القاعدہ کو فروخت کردیں گے۔‘ ایک دوسرے فرد کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کو اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے ہی کرنا ہوتا تو وہ بہت پہلے ہی ایسا کرچکے ہوتے۔ در حقیقت گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی تو اسی وقت القاعدہ کے کارکن اپنے ٹھکانے چھوڑ کر چلے گئے تھے اور طالبان کو بھی اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ اس کے بعد سے القاعدہ اور طالبان نے کامیابی کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متعدد محفوظ ٹھکانے قائم کیے ہیں اور ان کے خلاف پاکستانی فوج جنگ لڑ رہی ہے۔ اب اگر افغان حکومت اور افغانستان کے طالبان کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو القاعدہ کے مستقبل پر اس کا بہت بڑا منفی اثر پڑے گا۔ تاہم ایسا نہیں لگتا ہے کہ فوری ایسا ہونے والا ہے یا القاعدہ کو فوری طور پر پاکستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے کھونے پڑسکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||