دہشت گردی: اضافہ ہوا ہے یا کمی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی سطح پر دہشت گردی سے لاحق خطرے کے بارے میں دو متضاد جائزے سامنے آئے ہیں۔ تین ہفتے پہلے امریکہ نے سنہ دو ہزار سات کے حوالے سے اپنا سالانہ جائزہ ’کنٹری رپوررٹس فار ٹیررِزم‘ جاری کیا تھا۔ اس سالانہ رپورٹ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صورتحال کو جانچنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور نئی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے فروغ اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم آج شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ میں صورتحال کی ایک قدرے مختلف تصویر پیش کی گئی ہے۔ ’ہیومن سکیورٹی بریف 2007‘ نامی اس دوسری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں کمی ہوئی ہے اور القاعدہ نیٹ ورک کے لیے مسلمانوں کی حمایت میں بھی کمی آئی ہے۔ ہیومن سکیورٹی بریف 2007 کے مصنف اینڈریو میک کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے لاحق خطرے کے بارے میں ماہرین کی رائے کچھ زیادہ ہی منفی ہے۔ تو اصل صورتحال ہے کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دہشت گردی سے متعلق معلومات اور واقعات کو کس طریقے سے جانچا جاتا ہے، کیونکہ مختلف طریقہ کار سے مختلف صورتحال سامنے آئے گی۔ صرف واقعات یا ہلاکتوں کی اعداد و شمار گِننے سے دہشت گردی سے لاحق خطرے کا شاید صحیح اندازہ نہ لگ سکے۔ امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ہیومن سکیورٹی بریف رپورٹ کا کہنا ہے کہ دہشت گرد واقعات سے ہونے والی ہلاکتوں میں چالیس فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کا کہناہے کہ ان اعداد و شمار میں عراق میں شہری ہلاکتوں کو شامل کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ دہشت گردی کے نہیں بلکہ خانہ جنگی کے نتیجے میں ہو رہی ہیں۔
ہیومن سکیورٹی بریف رپورٹ کا یہ بھی دعوی ہے جو مسلمان ممالک القاعدہ کی کارروائیوں سے متاثر ہوئے ہیں ان میں القاعدہ کے لیے مسلمانوں کی حمایت کم ہوئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس کی ایک مثال سعودی عرب ہے جہاں سنہ 2003 کے بعد سے اس تنظیم کے لیے حمایت کم ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں بھی القاعدہ کے لیے سنی عسکریت پسندوں کی حمایت کم ہوئی ہے اور پاکستان میں بھی القاعدہ کے لیے لوگوں کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطرے کو جانچنا کتنا مشکل ہے کیونکہ اکثر دہشت گرد تنظیموں کے لیے حمایت تب ہی کم ہوتی ہے جب ان کا خطرہ بڑھتا ہے۔ طویل دورانیے میں دہشت گرد تنظیموں کو لوگوں کی حمایت درکار ہوتی ہے لیکن مختصر دورانیے میں وہ ایسی حمایت کے بغیر بھی کافی تباہی کر سکتی ہیں۔ صحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود انڈریو میک کہتے ہیں کہ صورتحال اتنی خراب نہیں ہے جتنی ماہرین بتا رہے ہیں۔ تاہم اگر ایک بھی بڑا دہشت گرد حملہ ہو جائے تو اس سے صورتحال بالکل تبدیل ہو جائے گی۔ لیکن ایسے حملے کے امکانات کیا ہیں؟ اس کا اندازہ لگانا ہی تو بہت مشکل ہے، ان دونوں متضاد رپورٹوں کو سامنے رکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جانچنا کہ دہشت گردی سے ہمیں اس وقت کتنا خطرہ ہے کتنا مشکل کام ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||