انسدادِ دہشت گردی کا نیا قانون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ نے نائن الیون کمیشن کی تجاویز پر مشتمل انسداد دہشت گردی کے نئے قوانین پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مایوس کن قرار دیا تھا۔ اس نئے بل کا مسودہ: ٭گیارہ ستمبر 2001 کے بعد افغانستان میں طالبان کے خاتمے اور پاکستان کے سرحدی صوبوں میں بین الاقوامی دہشت گردی پر قابو کے لیے پاکستان کی حکومت کو امریکہ کے ایک اہم معاون کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ٭ امریکہ اور پاکستان کے درمیان کئی اہم مسائل ابھی باقی ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں رکاوٹ، بین الاقوامی سلامتی اور پاکستان کے عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے کہ: 1) جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو روکنا 2) کرپشن اور غربت کو ختم کرنا 3) مؤثر حکومتی اداروں خاص طور پر سکیولر پبلک سکولوں کا قیام 4) جمہوریت کا فروغ اور بطور خاص قومی سطح پر قانون کی بالادستی 5) ملک بھر میں طالبان اور دوسری پرتشدد قوتوں کا مقابلہ 6) پاکستان کی حدود میں اس کی حکومت کے اختیارات کو برقرار رکھنا
7) پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانا تاکہ دہشت گردوں اور مزاحمت کار دوسرے ممالک اور علاقوں میں نقل و حرکت نہ کر سکیں۔ 8) اسلامی شدت پسندی کا موثر انداز میں توڑ کرنا یہ بل ایک طرح کا پالیسی بیان بھی ہے جس کے مطابق پاکستان کے لیے امریکی پالسی کے مندرجہ ذیل نکات ہوں گے۔ 1) پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا خاص طور پر پاکستان کے سرحدی صوبوں میں اور طالبان سے تعلق رکھنے والی قوتوں کا پاکستان کو ایک محفوظ جنت کے طور پر استعمال کا مکمل خاتمہ۔ 2) انسدادِ دہشت گردی بل میں بیان کیے گئے نکات پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی حکومت کے ساتھ طویل المدتی حکمت عملی کا قیام 3) اگر پاکستان کی حکومت اعتدال پسند اور جمہوری ریاست کے قیام کی سمت پیش رفت کرے جس میں 2007 میں ایسے آزادانہ اور غیر جانبدار پارلیمانی انتتخابات کی جانب نمایاں اقدامات بھی شامل ہیں جن میں ہر ایک کو شرکت کی اجازت ہو، تو اس صورت میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور ایجنسی فار انٹرنشینل ڈویلپمنٹ کے تحت چلنے والے پروگراموں کے لیے جوکہ پاکستان کی حکومت کو اس قسم کے معاملات کو حل کرنے میں معاونت کرتے ہوں، فنڈنگ میں ڈرامائی اضافہ۔ 4) بل میں بیان کی گئی پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی برداری کے ساتھ کام کرنا اور اضافی سیاسی اور مالی معاونت فراہم کرنا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد فراہم کرنا۔
پاکستان سے متعلق حکمت عملی: 1) حکمت عملی پر رپورٹ کی شرائط۔ اس ایکٹ کے نفاذ کی تاریخ کے نوے دن کے اندر صدر اسی مقصد کے لیے بنائی گئی کانگریس کی کمیٹیوں کو اگر ضروری ہو توخفیہ دستاویز کی شکل میں ایک رپورٹ پیش کریں گے جو کہ اس بل میں بیان کیے گئے نکات کے بارے میں پاکستان کی حکومت کے ساتھ امریکہ کی طویل المدتی حکمت عملی کی وضاحت اور کانگریس کی جانب سے تجویز کردہ پالیسوں پر عمل در آمد کو بیان کرتی ہو تاکہ اعتدال پسند اور جمہوری پاکستان کے قیام کے مقصد کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کو سکیورٹی کے ضمن میں فراہم کی جانے والی امریکی امداد کی شرائط: 1) 2008 اور 2009 کے مالی سال کے لیے پاکستان کو امریکی فوجی امداد کی اس تاریخ کے بعد پندرہ دن تک منظوری نہیں دے جا سکتی جس تاریخ کو صدر کانگریس کی کمیٹیوں کے سامنے اس بات کی یقین دہانی کروائیں کہ پاکستان اپنے علاقوں بشمول کوئٹہ، چمن، صوبہ سرحد اور فاٹا میں طالبان سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہا ہے۔ 2) صدر ایک برس کے لیے امداد کے ساتھ منسلک شرائط کو ختم کر سکتے ہیں بشرطیکہ صدر کانگریس کی کمیٹیوں کو اس بات کی یقین دہانی اور تصدیق کروائیں کہ ایسا کرنا امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔ 3) پاکستان کی امداد پر عائد پابندیاں اس وقت ختم ہو جائیں گی جب صدر کانگریس کی کمیٹیوں کے سامنے اس بات کی یقین دہانی اور تصدیق کروائیں کہ طالبان یا ان سے تعلق رکھنے والی کسی ایسی تنظیم کو ختم کردیا گیا ہے جو پاکستان سے افغانستان میں مزاحمتی، عسکری یا دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ |
اسی بارے میں انسداد دہشتگردی بِل کی منظوری 28 July, 2007 | آس پاس دہشت گردی پر نیا امریکی قانون29 September, 2006 | آس پاس ’دہشت گردی‘ کے خلاف جیت کا عزم12 July, 2005 | آس پاس دہشت گردی کےخلاف نیا قانون17 July, 2005 | آس پاس دہشت گرد منصوبہ اور امریکی میڈیا16 August, 2006 | آس پاس امریکہ، دہشت گردی کا خوف17 February, 2005 | آس پاس ’دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے‘12 September, 2004 | آس پاس مدد،مؤکل کی یا دہشتگردی کی؟11 February, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||