’دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تعزیتی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والے دو ہزار سات سو انتالیس افراد کے لواحقین نیویارک کے گراونڈ زیرو میں جمع ہوئے اور پھر وہاں مرنے والوں کے نام پکارے گئے۔ اس مرتبہ مرنے والوں کے والدین، دادا دادیوں اور نانا نانیوں نے ان کے نام پکارے۔ گزشتہ سال یہ نام چھوٹے بچوں نے پڑھے تھے۔ صدر بش نے امریکی ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی نرمی نہیں دکھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکہ پرعزم ہے کہ جارحانہ رویہ جاری رکھے اور دہشت گردوں کا وہاں تک پیچھا کرے جہاں وہ تربیت حاصل کرتے ہیں، یا سوتے ہیں یا اپنی جڑھیں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں‘۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاورز سے جس لمحے جہاز ٹکرائے تھے اور جس لمحے یہ بلند عمارتیں زمیں بوس ہوئیں تھیں اس وقت خاموشی اختیار کی گئی۔ واشنگٹن میں وزارت دفاع پینٹاگن کے باہر تقریب میں امریکی وزیرِ دفاع نے بھی حصہ لیا۔ پینسلوینیا میں اس سانحے کے سوگ میں گرجوں میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔ گیارہ ستمبر سن دوہزار ایک میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے انیس دہشت گردوں نے امریکہ کی ایک مقامی ائیر لائین کے چار جہازوں کو اغواء کر لیا تھا۔ ان میں دو کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارتوں سے ٹکرا دیا گیا تھا جب کہ ایک پینٹاگن پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ چوتھے کو پینسلوینیا میں گرا لیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||