BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 September, 2004, 04:50 GMT 09:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیارہ ستمبر کی یاد میں

ورلڈ ٹریڈ سینٹر
ابھی بھی لوگ پریشان ہیں کہ ایسا کیوں ہوا
امریکہ میں تین سال قبل گیارہ ستمبر کے دن ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوئے حملوں میں ہلاک ہونے والے تقریباً تین ہزار افراد کی ہلاکتوں کی تیسری برسی کے موقعے پر انہیں غم کے ساتھ یاد کیا جا رہا ہے۔

اسی ماحول میں القاعدہ نیٹ ورک کے رہنما اور اسامہ بن لادن کے ساتھی ایمن الزواہری کے نئے ویڈیو کا نشر کیا جانا اور اس میں امریکہ کو دی گئی دھمکیوں نے لوگوں میں کافی بیچینی پھیلا دی ہے۔

تین سال پہلے کے حملوں کو آج بھی لوگ یاد کر کے غمگین ہو جاتے ہیں۔ نیویارک میں رہنے والے ایک بھارتی نژاد تاجر منیش کہتے ہیں کہ ’ہم دعا کرتے ہیں کہ ایسا حملہ دوبارہ نہ ہو‘۔

مینہیٹن میں ایک ٹریول ایجنسی میں کام کرنے والی ایک بھارتی نژاد خاتون پریا کہتی ہیں کہ ’ہمیں اس تیسری برسی کے موقعہ پر ان بیگناہوں کو یاد کرنا ہے جو ہمارے درمیان نہیں رہے اور دعا کرنی ہے کہ اس طرح کے حملے دوبارہ نہ ہوں جن میں بیگناہوں کی جانیں جائیں‘۔

بنگلہ دیشی نژاد سجادالحق کہتے ہیں کہ ’اب بھی لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ اسی لیے ٹرین سے اتر کے سیدھے گھر کا رخ کرتے ہیں اور کسی حادثے کے ڈر سے زیادہ پیسے بھی نہیں خرچ کرتے۔ پہلے ایسا نہیں تھا‘۔

کچھ افراد کو امریکہ کی پالیسیوں پر بھی غصہ آتا ہے۔

نیو یارک کے اسلامی سینٹر کے ڈائریکٹر محمد مرغوب دہشت گردی کو برا بتاتے ہیں لیکن امریکی حکومت کو کچھ رائے بھی دیتے ہیں۔ ’ہم دہشت گردی کی سخت ترین مذمت کرتے ہیں اور بےگناہوں پر ظلم کے خلاف بھی آواز اٹھاتے ہیں۔ لیکن جس طرح نا انصافی ہو رہی ہے اس کے ساتھ امن کیسے ہو سکتا ہے‘۔

خالد اعظم پاکستانی نژاد ہیں اور نیو یارک میں وکالت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنا ہو گی۔ ’امریکہ اپنے آپ کو ایک سپر پاور سمجھتا ہے اور اسی ضعم میں وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس کے خلاف کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا اور اسی غلطی کی وجہ سے امریکہ میں پریشانیاں لاحق ہوئی ہیں۔ اور سب سے بڑی وجہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ہے‘۔

علی بھارت سے نیویارک آ کر وہاں پان سگریٹ کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب چیزوں کی وجہ جارج بش خود ہیں۔ ’یہ سب بش کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد