’دس مقامات نشانہ تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی تحقیقاتی کمیشن کے مطابق القاعدہ ابتدائی طور پر امریکہ میں دس مقامات کو نشانہ بنانا چاہتی تھی۔ امریکہ کےقومی کمیشن کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس سی آئی اے اور ایف بی آئی کے دفاتر کے علاوہ کیلیفورنیا میں کچھ مقامات پر بھی حملے کا منصوبہ تھا۔ اس منصوبے کے تحت ایک سال سے امریکہ کی تحویل میں خالد شیخ محمد خود ایک جہاز اغوا کر کے حملوں میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس جہاز کے تمام مرد مسافروں کو ہلاک کرنے کے بعد ٹیلی ویژن پر امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے بارے میں خطاب کر سکیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون پر حملے کی حمایت کی۔ اس رپورٹ کے مطابق القاعدہ اب بھی کیمیائی، جراثیمی، جوہری یا ریڈیائی حملے کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور رپورٹ میں ستمبر 2001 کے حملوں میں القاعدہ کو عراقی مدد حاصل ہونے کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اب تک ایسی کوئی قابلِِ اعتبار شہادت نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ گیارہ ستمبر کو واشنگٹن اور نیو یارک پر کیے جانے والے حملوں میں القاعدہ کو عراقی مدد حاصل تھی۔ کمیشن کا یہ بیان اس کے دو روزہ آخری اجلاس سے قبل شائع ہوا ہے اور اس سے پیر کو امریکی نائب صدر کے شائع ہونے والے اس بیان کے تردید ہوتی ہے کہ صدام حسین کے القاعدہ سے ’گہرے تعلقات‘ تھے۔ عراق کے القاعدہ سے مبینہ تعلقات بھی ان بہانوں میں سے ایک تھا جو عراق پر عملے کے لیے بیان کیے گئے تھے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں میں اس وقت تین ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے جب القاعدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے طیارہ اغوا کر کے واشنگٹن اور نیویارک پینٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو نشانہ بنایا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ 28 جولائی کو جاری کی جائے گی۔ تاہم بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ کمیشن کی ابتدائی رپورٹ میں جن امور کا احاطہ کیا گیا ہے اور جن کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہ بھی بش انتظامیہ کے لیے خوشگوار ثابت نہیں ہوں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||