متنازعہ کارٹون، اسامہ کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ تنظیم کے رہنما اسامہ بن لادن نے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹون کی اشاعت پر یورپی یونین کو سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ایک انٹر نیٹ سائٹ پر جاری کئے جانے والے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کارٹون کی اشاعت صلیبی جنگوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس میں عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈک بھی ملوث ہیں۔ اسامہ بن لادن کا یہ تازہ پیغام عراق پر امریکی حملے کے پانچ سال پورے ہونے پر سامنے آیا ہے۔ پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون پہلی مرتبہ ڈنمارک کے ایک اخبار ’یولاندے پوستن‘ نے ستمبر دو ہزار پانچ میں شائع کیے تھے لیکن ان پر مسلم دنیا سے رد عمل اس وقت دیکھنے میں آیا جب یہ متنازعہ کارٹون سن دو ہزار چھ میں دوسرے اخبارات میں دوبارہ شائع کیئے گئے۔ ان کارٹونوں کی اشاعت پر دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جن اخبارات نے یہ کارٹون شائع کئے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ آزادی رائے اور آزادی صحافت کا دفاع کر رہے ہیں۔ اسامہ بن لادن کا پیغام اخلاص نامی ایک ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے جس پر اکثر القاعدہ کے رہنماؤں کے پیغامات جاری ہوتے رہتے ہیں۔ اس پیغام کا عنوان ہے کہ ’رد عمل وہ ہو گا جو آپ صرف سنیں گئے نہیں بلکہ دیکھیں گے بھی‘۔ عربی زبان میں جاری ہونے والے پیغام کے ساتھ اسامہ بن لادن کی کوئی تصویر جاری کی گئی ہے اور نہ ہی اس پر القاعدہ تنظیم کوئی نشان لگایا گیا ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں اسامہ بن لادن نے یورپی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ امریکہ کا ساتھ چھوڑ دے اور اس کے بعد ان کا کوئی پیغام سامنے نہیں آیا تھا۔ اسامہ بن لادن نےگزشتہ سال کے آخر میں کئی پیغام جاری کئے تھے جو تقریباً ایک سال کے وقفے سے سامنے آئے تھے اور اس دوران یہ افواہیں گرم ہو گئی تھیں کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان دشوار گزار پہاڑی علاقے میں کہیں روپوش ہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ اسلام قبول کرلے: اسامہ07 September, 2007 | آس پاس اسامہ کی وڈیو کے اقتباسات08 September, 2007 | آس پاس ’یورپی افراد کے لیے اسامہ کا پیغام‘ 27 November, 2007 | آس پاس اسامہ کے بیٹے ’امن کے سفیر‘20 January, 2008 | آس پاس ’مغنیہ مطلوب ترین، تیز ترین اور شاطر دہشتگرد‘14 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||