اسامہ کے بیٹے ’امن کے سفیر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسامہ بن لادن کے بیٹے عمر اسامہ بن لادن نے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں اور مغرب کے درمیان امن کے سفیر بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی بیوی امن کے فروغ کے لیے شمالی افریقہ میں 5000 کلومیٹر گھڑ سواری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا امن ریلی مارچ میں شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ قاہرہ میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ مغرب والوں کے ذہنوں کو بدلنے کا وقت ہے۔ وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عرب، خصوصاً بن لادن قبیلے کے لوگ اور ان میں بھی اسامہ کے بچے، سب دہشت گرد ہیں۔ یہ سچ نہیں ہے۔‘ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اسامہ بن لادن کے انیس بچے ہیں اور عمر اسامہ کی پہلی بیوی نجوا سے ہیں۔ 26 سالہ عمر نے ایک 52 سالہ برطانوی شہری جین فیلکس براؤن سے گزشتہ سال شادی کر لی تھی۔ جین نے بعد میں اپنا نام زئنہ الصباح رکھ لیا تھا۔
عمر نے اپنے باپ سے قطع تعلق تو نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے علاوہ بھی اسلام کا دفاع کرنے کے بہت بہتر طریقے ہیں۔ ان کی بیوی الصباح جو عمر کو برطانیہ لانے کی کوشش کر رہی ہیں کہتی ہیں کہ ’عمر سمجھتے ہیں کہ وہ مذاکرات کار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ (عمر) دنیا کے ان چند لوگوں میں سے ہیں جو یہ کر سکتے ہیں۔‘ عمر القاعدہ کے رہنما کے ساتھ سوڈان اور بعد میں 1996 میں افغانستان میں بھی رہ چکے ہیں۔ عمر کا کہنا ہے کہ انہوں نے وہاں القاعدہ کے ایک کیمپ میں تربیت حاصل کی تھی لیکن 2000 میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ لڑائی کے علاوہ اور بھی کوئی حل ہو سکتا ہے۔ وہ اسامہ کو چھوڑ کر سعودی عرب واپس آ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان چھوڑنے کے بعد سے لے کر اب تک ان کا اپنے والد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ | اسی بارے میں اسامہ بن لادن کی برطانوی بہو11 July, 2007 | آس پاس ’ یہ نام پیچھا نہیں چھوڑتا‘23 December, 2005 | فن فنکار علی حیدر کا’اسامہ‘ بننے سے انکار16 January, 2008 | فن فنکار اُسامہ کہاں، معلوم نہیں: ملا عمر04 January, 2007 | آس پاس جمائما کا جوڑا صحیفوں کےساتھ09 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||