BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
علی حیدر کا’اسامہ‘ بننے سے انکار

علی حیدر
علی حیدر کا کہنا ہے وہ پاکستان کے بارے میں تصور بدلنا چاہتے تھے
’پرانی جینز اور گٹار‘ نامی گیت سے شہرت پانے والے پاکستانی پاپ سنگر علی حیدر نے نامعلوم افراد کی دھمکیوں کے بعد بھارتی فلم ’اسامہ‘ میں کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ فلم بھارتی فلم ساز فیصل سیف بنا رہے ہیں، جس کی کہانی موسیقی سے لگاؤ رکھنے والے ایک کشمیری نوجوان پر مبنی ہے جس کا نام اسامہ ہے۔ فلم کی کہانی افغانستان سے ہوتی ہوئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر تک جا پہنچتی ہے۔

علی حیدر اس فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے، جس سے یہ تاثر عام ہوگیا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کا کردار ادا کرنے والے ہیں۔

علی حیدر کا کہنا ہے کہ جب وہ گزشتہ سال نومبر میں ممبئی میں تھے تو کراچی میں ان کی فیملی کو دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فلم کو ایک اہم منصوبہ سمجھتے تھے اس لیے ان دھمکیوں کے باوجود وہ دسمبر میں دوبارہ ممبئی گئے اور کانٹریکٹ پر دستخط کیے۔

پریشانی کا باعث
 انہیں میری حرکات وسکنات کا بھی علم تھا، میں کس وقت چہل قدمی کرتا ہو اور کس وقت کلب جاتا ہوں، جس نے مجھے زیادہ پریشان کر دیا تھا۔
علی حیدر

علی حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں بھی ذاتی طور یہ دھمکیاں ملی تھیں اور انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ اس فلم میں کام نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں میری حرکات و سکنات کا بھی علم تھا، میں کس وقت چہل قدمی کرتا ہو اور کس وقت کلب جاتا ہوں، جس نے مجھے زیادہ پریشان کر دیا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ فلم کی کہانی میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے پاکستانیوں یا مسلمانوں کی کسی بھی حوالے سے دل آزاری ہوتی ہو۔ علی حدر کے مطابق’میں دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں تصور بدلنا چاہتا تھا اور انہیں سکے کا دوسرا رخ دکھانا چاہتا تھا جو بحیثیت مسلمان میری ذمے داری ہے‘۔

علی حیدر کا کہنا تھا کہ لوگ ان کے میوزک کو پسند کرتے ہیں اس لیے فلم سے ان کی وابستگی رہے گی اور فلم کے گیت ان ہی کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان میں اعلیٰ پائے کے سیاستدانوں کی زندگی محفوظ نہیں ہے وہ تو صرف ایک آرٹسٹ ہیں، حکومت کسی بھی طریقے سے انہیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ علی حیدر نے کہا کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا، جس سے کسی کو انہیں مار کر بہت بڑی خوشی ہوگی۔

علی حیدر آج کل اپنے البم ’جانے دو‘ کی تیاری میں مصروف ہیں جو فروری میں پاکستان کے ساتھ بھارت میں بھی ریلیز ہوگا۔ وہ ایک لو سٹوری پر فلم بنانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں جس میں ان کے بقول پاکستان اور بھارت کے آرٹسٹ شامل ہوں گے۔

اسی بارے میں
افغان اور بالی وڈ کا اشتراک
26 September, 2006 | فن فنکار
’ یہ نام پیچھا نہیں چھوڑتا‘
23 December, 2005 | فن فنکار
مسلمانوں کی ایک اور جنگ
10 May, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد