مسلمانوں کی ایک اور جنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈائریکٹر رِڈلی سکاٹ کی نئی فلم ’کِنگڈم آف ہیون‘ مئی کے پہلے ہفتے میں برطانیہ میں ریلیز ہوئی ہے لیکن اس پر کچھ عرصے سے متنازع باتیں چل رہی ہیں۔ فلم تاریخ کے ایک ایسے دور کو دکھاتی ہے جس میں عیسائیوں نے مشرق وسطی کی طرف رخ کر کے ’کروسیڈز‘ یعنی صلییی حملے شروع کیے تھے اور گیارھویں صدی میں یروشلم یعنی القدس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اٹھاسی برس بعد مسلمان جرنیل صلاح الدین ایوبی القدس کو عیسائیوں سے واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔ فلم کی کہانی القدس میں طے پاتی ہے۔ اس کا ہیرو ایک عیسائی نوجوان ہے جو اپنے خاندان کی ہلاکت کے بعد صلیبی جدوجہد میں شامل ہو جاتا ہے اور اسے عیسائی بادشاہ القدس کی دفاع کی ذمہ داری سونپ دیتا ہے۔
فلم پر تنازع کی ایک وجہ یہ ہے کہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو حقیقت سے اچھا اور زیادہ سمجھدار دکھایا گیا ہے۔ ایسی ہی رائے رکھنے والے کیمبرج یونی ورسٹی میں صلیبی جنگوں کی تاریخ کے ایک ماہر پروفیسر رائلی سمتھ ہیں جنہوں نے کچھ عرصے پہلے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا:
لیکن پروفیسر رائلی سمتھ اور دیگر ناقدین کے اس رائے پر فلم کے ڈائریکٹر رڈلی سکاٹ کہتے ہیں کہ یہ تمام الزامات فضول ہیں۔ ’مجھ پر یہ الزامات لگائے گئے کہ یہ فلم مسلمان مخالف ہے، عیسائی مخالف ہے، مسلمانوں کی طرفداری کرتی ہے، عیسائیوں کی طرفداری کرتی ہے۔ لیکن میرا تو اپنا خیال یہ ہے کہ فلم بہت متوازن ہے۔، فلم القدس میں مسلمانوں کی فتح پر ختم ہوتی ہے۔ اور شاید جو بات ناقدین کو سب سے بری لگی ہے وہ یہ کہ ایک جنگ کے دوران دشمنوں سے اندھا دھند نفرت کے بجائے یہ دکھایا گیا ہے کہ مخالفین بھی ایک دوسرے کی بہادری اور صلاحیتوں کی بنیاد پر عزت کر سکتے ہیں۔ برطانوی اخبار ’دی گارڈئین ‘ کے صحافی جوناتھن جونز کی فلم کے بارے میں رائے پروفیسر رائلی سمتھ کی رائے کے بالکل بر عکس ہے۔ اخبار میں لکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ فلم دیکھنے کے بعد انہوں نے جب اس کہانی کی تاریخی بنیاد اور حقائق جاننے چاہے تو انہیں یہ پتہ چلا کہ بالیان نامی ایک شحص نے واقعی صلاح الدین ایوبی کے ساتھ مذاکرات کر کے القدس کی فتح کو خونریز ہونے سے بچایا۔ عیسائی فوج نے القدس کے قبضے سے پہلے مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کیا تھا لیکن جب مسلمانوں نے شہر واپس لیا تو صلاح الدین نے انتقام کے بجائے عسائیوں کو شہر سے زندہ نکلنے دیا ۔
جونز کہتے ہیں کہ وہ یہ تمام تاریخی حقائق جان کر حیران ہوئے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آرہا کہ اس فلم کے ’سیاسی نظریے‘ پر اتنی بحث کیوں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے مغربی ممالک اور مسلمانوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے ماحول میں ایسی فلم ہمیں تارئح میں سے ہم آہنگی اور برداشت کا سبق نکالتی ہے۔ ڈائریکٹر نے ’کنگڈم آف ہیون‘ کو اپنی فلم ’گلیڈییٹر‘ کی طرز پر ایک تاریخی ایکشن فلم بنانا چاہی ہوگی لیکن وہ ایک عجیب سے تنازعے کا حصہ بن گئی ہے۔ اس فلم میں اورلینڈو بلوم کے علاوہ ایوا گرین، لییم نیسن اور جیریمی ائرنز بھی ہیں۔ بادشاہ کے مشیر ٹائبیریس کے کردار ادا کرنے والے جیریمی ائرنز نے پریمئیر کے موقع پر جیریمی ائرنز نے کہا:’رڈلی اس بات کی تردید کریں گے کہ اس فلم کے کوئی سیاسی اثرات ہونگے وہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک کہانی ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن ظاہری بات ہے اس کی گونج سنائی تو دے گی۔ میری بھی یہی سوچ ہے جو اس فلم میں میرے کردار کی ہے : کہ ہم سب کو ساتھ رہنا ہے ، مل کر رہنا ہے۔ خدا کو ہم جس نام سے بھی پکاریں۔‘ تو کیا یہ پوری بحث ہی غیر ضروری تھی؟ ڈائریکٹر رڈلی سکاٹ کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہے اور لوگ فلموں کو اپنے پروپوگینڈے میں شامل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی فلم ’بلیک ہاک ڈاؤن‘ کو امریکہ میں اس لیے جلدی ریلیز کیا گیا کہ خیال تھا کہ اس سے افغانستان میں جنگ کے لیے حمایت بڑھے گی۔ اور اب اس فلم پر تنقید اس لیے کی جا رہی ہے کہ اس میں مغربی ممالک کی افواج کو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھاتے دکھایا گیا ہے۔
اس فلم کو امریکہ میں ’کنگڈم آف ہیون‘ کے نام سے نہیں بلکہ ’دی کروسیڈ ز‘ کے نام سے ریلیز کیا گیا ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||