ہالی وڈ کی تازہ فلم کنگڈم آف ہیون نے اپنی ریلیز کے پہلے ہفتے میں ہی شمالی امریکہ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں۔ ہدائیت کار سر رڈلے سکاٹ کی یہ فلم جس کے ہیرو اورلینڈو بلوم ہیں۔یہ فلم بارہویں صدی میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلیبی جنگوں کے پس منظر میں بنائی گئی ہے اور ریلیز ہونے کے بعد پہلے ہی ویک اینڈ میں اس فلم نے بیس ملین ڈالر کے لگ بھگ کما لئے ہیں۔ اگر اس فلم کو بزنس کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یقیناً کنگڈم آ ف ہیون نے اپنے سے قبل نمائش کے لئے پیش ہونے والی فلم ہاؤس آف ویکس کے بارہ ملین ڈالر ، ہچ ہائکرز گائڈ ٹو دی گلیکسی اور کریش نامی فلم کی نو نو ملین ڈالر کی آمدنی کے مقابلے میں زیادہ رقم کمائی ہے۔  |  ہاؤس آف ویکس کا ایک منظر |
تاہم فلمی ناقدین اس سے متاثر نہیں ہیں اور انکے بقول موسمِ گرما کے پہلے ہفتوں میں ریلیز ہونے والی ماضی قریب کی کامیاب فلموں سے اگر موازنہ کیا جائے تو پہلے ویک اینڈ پر بیس ملین ڈالر کی آمدنی کچھ زیادہ متاثر کن نہیں لگتی۔ مثلاً گزشتہ برس اسی ویک اینڈ پر ریلیز ہونے والی فلم وان ہیلسنگ نے باون ملین ڈالر ، ایکس ٹو نے چھیاسی ملین ڈالر اور اس سے بھی پہلے سن دو ہزار دو میں ریلیز ہونے والی سپائڈر مین نے پہلے ویک اینڈ پر ایک سو پندرہ ملین ڈالر کا بزنس کیا۔ تاہم کنگڈ م آف ہیون ریلیز کرنے والے ادارے فوکس نے یہ کہہ کر فلم کا دفاع کیا ہے کہ ڈھائی گھنٹے طوالت والی اس فلم نے شمالی امریکہ سے باہر پہلے ہی ویک اینڈ پر چھپن ملین ڈالر کا بزنس کیا ہے۔ فلموں کی تقسیم کاری کے ایک ادارے ایگزیبٹر ریلیشنز کے صدر پال ڈیگرا بیدیاں کا کہنا ہے کہ فلمی بزنس کی کساد بازاری اگلے ویک اینڈ پر ختم ہو جائے گی جب سٹار وار سیریز کی آخری فلم ایپی سوڈ تھری، ریوینج آف دی ستھ ریلیز ہوگی پال ڈیگرا کے بقول جب ریوینج آف دی ستھ ریلیز ہوگی تو یقین مانیں کہ لوگ اپنے تمام کام کاج چھوڑ کر سینما گھروں کی طرف لپکیں گے۔ |