جب مسلمان عیسائیت اختیار کر لیتے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضیاء میرل نے جب عیسائیت کو ترجیح دیتے ہوئے مذہب اسلام کو چھوڑ تو ان کے والدین نے انہیں عاق کر دیا۔ انہوں نے کہا ’گھر سے چلے جاؤ، تم ہمارے بیٹے نہیں‘۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ’میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گیا ہوں کیونکہ ان کے لیے اس سے بڑی شرم کی بات اور نہیں تھی کہ میں نے اسلام ترک کر دیا تھا‘۔ ضیاء میرل کا تعلق ترکی سے ہے اور انہوں نے برطانیہ میں یونیورسٹی کے دنوں میں عیسائیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ضیاء کو معلوم تھا کہ اپنے فیصلے کے بارے میں والدین کو بتانا سب سے مشکل کام ہوگا حالانکہ ان کے والدین بہت زیادہ سختی سے مذہب پر عمل نہیں کرتے تھے۔ ایسے ہی تجربات کی بہت سی دوسری مثالیں بھی ہیں۔ صوفیہ (اصلی نام نہیں) نے جب اسلام چھوڑ کی عیسائی بننے کا فیصلہ کیا تو انہیں بھی کچھ اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اٹھائیس سالہ صوفیہ پاکستانی نژاد ہیں اور اب وہ مشرقی لندن میں رہتی ہیں۔ ’میرے والدین مجھ سے کہتے رہے کہ اسلام چھوڑنے کی سزا موت ہے، کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس کی سزا موت ہے؟‘ تھک ہار کر صوفیہ گھر سے بھاگ گئیں۔ لیکن ان کی والدہ نے انہیں ڈھونڈ نکالا اور اس تقریب میں جا پہنچیں جس میں انہیں رسمی طور پر عیسائی بنایا جا رہا تھا۔
’میری ماں نے تقریب کو روکنے کی کوشش کی۔ میرا بھائی تو بہت ہی غصے میں تھا۔اس نے مجھے فون کرکے کہا کہ مجھے بتایا کہ وہ اس گرجا گھر کو آگ لگانے کے لیے وہاں پہنچ رہا ہے۔‘ صوفیہ اور ضیاء کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ان کا تعلق کسی حد تک ’خاندان کی عزت‘ سے جڑی ان ثقافتی اقدار سے ہے جوجنوبی ایشیائی لوگوں کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔ لیکن صرف یہ کہہ دینا بہت آسان ہے کہ یہ ایک ثقافتی مسئلہ ہے۔ ذرا گہرائی میں جا اس معاملے کو جاننے کی کوشش کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک نقطۂ نظر کے مطابق اسلام کو ترک کرنے والا موت کا مستحق ہوتا ہے۔ برطانوی سماج کے لیے اس کے سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے 64 سالہ برطانوی ٹیچر داؤد حسن خان کو صومالیہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کی بیوہ مارگریٹ علی کہتی ہیں کہ ان کے شوہر کو ان لوگوں نے نشانہ بنایا جن کے خیال میں اسلام ترک کرنے والے ہر شخص کو قتل کرنا جائز ہے۔‘ اسلام کو ترک کرنے والوں کے لیے موت کی سزا تجویز کرنے والوں کے مطابق ایسے لوگ بھی موت کی سزا کےحقدار ہیں جو مذہب کو ترک کر کے خدا کی موجودگی سے انکار کرتے (ملحد) یا وہ لوگ جو خدا کی موجودگی کے بارے شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔ گزشتہ برس مذہب تبدیل کرنے کے سوال پر ایک سروے میں ایک تہائی نوجوان مسلمانوں نے کہا کہ مذہب ترک کرنے والوں کو موت کی سزا دی جانی چاہیے۔ کچھ عرصہ پہلے تک میری بھی یہی رائے ہوتی لیکن قدامت پسندی کو مسترد کرنے کے بعد سے میں ان معاملات پر دوبارہ غور کر رہا ہوں جنہیں پہلے میں بحث یا نظر ثانی کے دائرے سے باہر مانتا تھا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ قرآن میں اسلام چھوڑ کر جانے والوں کی سزا کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن سزا کی وکالت کرنے والے دو مبہم احادیث کا سہارا لیتے ہیں۔ ان احادیث کے ایک سے زیادہ معنی نکالے جا سکتے ہیں اور اسلامی سکالروں نے مجھے بتایا کہ یہ احادیث درحقیت ’اسلام سے غداری‘ کے بارے میں ہیں نہ کہ مذہب چھوڑنے کے بارے میں۔ ان سکالروں کے خیال میں اسلام سے غداری کی سزا بھی ایک صوابیدیدی عمل ہے یعنی جج یا قاضی کے لیے لازم نہیں کہ وہ ہر صورت میں اسلام سے غداری کے مرتکب شخص کو موت ہی کی سزا سنائے۔ ڈاکٹر ہاشم ہلیر آکسفورڈ یونیورسٹی میں شریعہ کے ماہر ہیں۔ ان کے خیال میں مذہب تبدیل کرنے پر سزائے موت کی تجویز بےمعنی ہو چکی ہے اور بعض حالات میں اس پر عمل درآمد روک دینا چاہیے جبکہ کیمبرج سے تعلیم حاصل کرنے والے سائنسدان اور امام اسامہ حسن کے مطابق’کلاسیکل سکالرز‘ نے ان احادیث سے جو مطلب نکالا وہ غلط تھا۔ گزشتہ برس مصر کے مفتی اعظم نےواشنگٹن پوسٹ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مذہب تبدیل کرنے پر سزا ئے موت کی تجویز اب فرسودہ ہوگئی ہے۔ ان کے اس بیان پر مصر اور مشرق وسطی میں کافی بحث ہوئی۔ اسلام سے کنارہ کشی اختیار کرنے والوں کو قتل کرنے کی بات کو گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد تقویت حاصل ہوئی ہے کیونکہ ان حملوں کے بعد سے اسلام پر سیاست کا اثر بڑھا ہے۔ بہت سے لوگ مغربی دنیا کو ’ وہ اور ہم ‘ کے نظریے سے دیکھتے ہیں۔ اور اگر مذہب سے غداری کی سزا موت ہے تو یہ فیصلہ کون کرے گا کہ مذہب سے غداری کیا ہے؟ اسی سال برمنگھم میں کچھ نوجوانوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ایک نوجوان مسلم برطانوی فوجی کو اغواء کر کے قتل کرنے کی سازش تیار کر رہے تھے کیونکہ بقول ان کے اس فوجی نے اسلام کے ساتھ غداری کی تھی۔ لہذا ایک طرف تو یہ بحث چل رہی ہےکہ کیا مذہب بدلنا کوئی جرم ہے، ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اسلام کے ساتھ غداری آخر ہے کیا؟ اسلام ترک کرنے والوں سے نمٹنے سے متعلق مختلف نظریات اسلام کے اندر قدامت پسندی اور روشن خیالی کے درمیان جاری جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔اور اس بحث میں کون جیتتا ہے اس سے پتہ چلے گا کہ یہ جدوجہد کیا سمت اختیار کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||