اسلام اور ترک مذہب کا معاملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قرآن کی اس واضح آیت کے باوجود کہ ’دین میں کوئی جبر نہیں‘، اسلام کو ترک کرنے کا عمل انتہائی دشوار ہے اور اسلام میں مذہبی آزادی کا معاملہ اکیسویں صدی میں بھی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم اور ایک مصری ادارے کی مشترکہ رپورٹ مصر میں اس مسئلے پر روشنی ڈالتی ہے۔ ہیومن رائٹش واچ کے اہلکار جو سٹروک اس سلسلے میں ایک واقعہ سناتے ہیں جس میں ایک عیسائی خاتون نے مسلمان مرد سے شادی کے وقت اسلام قبول کر لیا لیکن بعد میں واپس اپنے عقیدے پر جانا چاہا۔ اہلکار کے مطابق جب مذکورہ خاتون اسلام قبول کرنا چاہ رہی تھی تو معاملہ اتنا آسان تھا جیسے کسی کو کہا جا رہا کہ ’ آپ بیٹھیں، کافی پئیں، اتنی دیر میں ہم ضروری کاغذات تیار کر لیں گے۔‘ لیکن جب بات دوبارہ عیسائیت قبول کرنے کی آئی تو معاملہ عدالت تک پہنچ گیا اور اس سارے عمل کے دوران خاتون کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شناخت کا مسئلہ مصر میں مذکورہ خاتون جیسے افراد کی مشکلات میں اضافہ اس وقت ہوا جب دس بارہ سال پہلے حکومت نے شناختی کارڈوں کے نظام کو کمپیوٹرائز کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں جن عیسائیوں نے اسلام کو ترک کر کے واپس عیسائی ہونا چاہا انہیں شناختی کارڈوں میں تبدیلی کرانے کے لیے دفتروں کے چکر لگانا پڑے۔
مذہب تبدیل کرنے کے معاملے میں مصر میں لوگوں کو ایک مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سرکاری سطح پر صرف تین مذاہب کو تسلیم کیا جاتا ہے جن میں اسلام، عیسائیت اور یہودیت شامل ہیں۔ اس وجہ سے بہائی مذہب کے ماننے والوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے مصر میں حال ہی میں دئیے جانے والے دو عدالتی فیصلوں کو خوش آمدید کہا ہے۔ ایک فیصلے کے مطابق بہائی مذہب کے ماننے والوں کو اجازت دیدی گئی ہے کہ وہ شناختی کارڈ پر مذہب کا خانہ خالی چھوڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسرے فیصلے میں حکومت کو حکم دیا گیا کہ وہ عیسائیوں کے ایک گروپ کی یہ بات تسلیم کرے کہ واپس عیسائیت اپنانے پر ان کے شناخی کارڈوں اور دیگر سرکاری کاغذات میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں۔ مسئلے کی جڑ جہاں تک ترک مذہب میں مشکلات کا معاملہ ہے یہ مسئلہ مصر تک محدود نہیں ہے۔ مثلاً سنہ دو ہزار چھ میں جب ایک افغانی مسلمان خاتون نے عیسائیت قبول کی تو اسے موت کی سزا سنا دی گئی اور اسے اٹلی میں پناہ لینا پڑی۔ اسی طرح ایران میں بھی ایک قانون کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جسے اگر قانونی شکل مل جاتی ہے تو ترک اسلام کی صورت میں موت کی سزا دی جا سکے گی۔ ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی نے مشہور ادیب سلمان رشدی کو انکے ناول ’شیطانی آیات‘ کی بنیاد پر تارک دین قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ سلمان رشدی واجب القتل ہیں۔ سول اٹھتا ہے کہ اس مسئلہ کی بنیاد کیا ہے، آخر کچھ مسلمان سکالر ترک اسلام کی صورت میں اتنی شدید سزا کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مذاہب کے شعبے کے لیکچرر عبدالحکیم مراد کا کہنا ہے کہ اسلامی قوانین میں غیرمعمولی تنوع پایا جاتا ہے۔’ ایسی چیزیں بہت کم ہیں جن پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے، جیسے پانچ وقت کی نماز، رمضان میں روزے رکھنا وغیرہ لیکن قوانین کے معاملے میں زیادہ تر مسائل پر اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ کچھ ماہرین سزائے موت کے حامی ہیں جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اللہ اور روز قیامت پر چھوڑ دینا چاہئیے۔‘ ڈاکٹر مراد کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں مسلمان سکالروں کی ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کی جس میں صرف ایک سکالر سزائے موت کے حامی تھے جبکہ دیگر کا خیال تھا کہ سزائے موت دینا غلط ہے۔ لیکن فی الوقت یہ مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور مختلف ممالک میں ترک اسلام کرنے والے افراد کی مشکلات میں کمی ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||