BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حجاب، تشدد اور اسلام زیرِبحث
حجاب (فائل فوٹو)
اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تشدد اور اسلام کا کوئی تعلق ہے
کینیڈا میں حجاب پہننے سے انکار کرنے والی ایک مسلمان لڑکی کے مبینہ طور پر اپنے والد کے ہاتھوں قتل پر اسلامی اقدار پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سولہ سالہ اقصیٰ پرویز کو کینیڈا کے علاقے مِسی ساگا میں ان کے والد محمد پرویز نے چند روز قبل گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اقصیٰ اور ان کے والد کے درمیان کئی ماہ سے حجاب پہننے یا نہ پہننے کے مسئلے پر تکرار چل رہی تھی۔

پولیس نے محمد پرویز کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جبکہ اقصیٰ کے بھائی وقاص پرویز بھی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام کے تحت حراست میں ہیں۔

مقتولہ اقصیٰ کی آخری رسومات پندرہ دسمبر کو ادا کی گئیں، جس میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں ان کے سکول کے طلباء و طالبات اور علاقے کے لوگ اکٹھے تھے۔ تاہم اقصیٰ کے لواحقین نے آخری وقت میں تجہیز و تکفین کی جگہ تبدیل کردی۔

والدین کی ذمہ داری
 والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان (اسلامی) اقدار کے بارے میں بتائیں۔ لیکن مسلمان قتل کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں
ڈاکٹر اقبال ندوی

اقصیٰ کے سکول میں ان کی تصویر کے ساتھ تعزیتی پیغامات کے لیے کتاب رکھ دی گئی ہے، جہاں ان کو جاننے والے یا اس واقعہ سے دکھی ہونے والے اہل علاقہ پھول رکھ رہے ہیں۔

عزت اور اقدار کے نام پر ہونے والا مبینہ قتل کا یہ واقعہ کینیڈا کے اخبارات میں نمایاں جگہ لیے ہوئے ہے اور اسلام کے حوالے سے حجاب، غیرت کے نام پر قتل اور عورتوں پر تشدد جیسے موضوعات زیر بحث ہیں۔

انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس پر اس واقعہ کے بعد انہیں موضوعات پر زوردار بحث ہو رہی ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر اس موضوع پر گیارہ گروپ اور ان کے پانچ ہزار سے زائد ارکان سامنے آ چکے ہیں۔

یو ٹیوب پر اقصیٰ پرویز کی ہلاکت اور اس پر ردعمل کے حوالے سے کئی ویڈیو دیکھی جا سکتی ہیں۔

کینیڈا میں مسلمان مذہبی رہنماء کوشش کر رہے ہیں کہ اس تاثر کو ختم کیا جائے کہ غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ کینیڈین مذہبی سکالر ڈاکٹر اقبال ندوی کا کہنا ہے کہ والدین شاید شرمندگی محسوس کرتے ہیں اگر ان کے بچے اسلامی تعلیمات اور حجاب کی پابندی نہ کریں۔

یادیں اور پھول
 اقصیٰ کے سکول میں ان کی تصویر کے ساتھ تعزیتی پیغامات کے لیے کتاب رکھ دی گئی ہے، جہاں ان کو جاننے والے یا اس واقعہ سے دکھی ہونے والے اہل علاقہ پھول رکھ رہے ہیں

ان کے مطابق یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان (اسلامی) اقدار کے بارے میں بتائیں۔ ’لیکن مسلمان قتل کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔‘

کینیڈا کی مسلم کمیونٹی میں انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اقصیٰ کے قتل کے پیچھے حجاب کا مسئلہ ہی کارفرما ہے۔ ’لیکن یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے کہ آیا حجاب اسلام میں لازمی ہے یا نہیں۔‘

خاتون سماجی کارکن، جو خود حجاب پہنتی ہیں، کا کہنا ہے کہ حجاب یا مذہب اصل مسئلہ نہیں ہے بلکہ توجہ طلب بات خواتین کے خلاف گھروں میں ہونے والا تشدد ہے۔

برقعہ اور ووٹ
کینیڈا کے انتخابات میں ایک نئی بحث
نقاب، پابندی درست
برطانوی طالبہ نقاب کا مقدمہ ہار گئی۔
نقابمصری عدالت
نقاب پہننا شخصی اور مذہبی آزادی کا معاملہ ہے
نقاببرقع پر پابندی
ھالینڈ میں برقع پابندی پرمسلم خواتین کی تنقید
باپردہ خاتونکلاس میں نقاب
پڑھاتے ہوئے نقاب پر برخواست کرنے کا مطالبہ
شبینہ بیگمحجاب کی جیت
’سکول نے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی‘
غیرت کے نام پر
برطانیہ میں غیرت کے نام پر سو سے زیادہ قتل ہوئے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد