BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 October, 2007, 03:07 GMT 08:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیڈا کی نقاب پوش ووٹرز

مغربی ممالک میں نقاب کا معاملہ بار بار اٹھایا جارہا ہے
آج کل کینیڈا کی ایک سو پچاس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان خواتین کے برقعہ یا نقاب پہن کر ووٹ ڈالنے کے مسئلہ پر بحث چل رہی ہے۔ صوبہ انٹاریو میں دس اکتوبر کو منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات سے قبل نقاب کے مسئلے کو چھیڑا گیا ہے جس کے اگلے ہفتے ہونے والے انتخابات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

کینیڈین وزیراعظم سٹیفن ہارپر اور الیکشن کمیشن کینیڈا کے مابیین گزشتہ چند ہفتوں سے ہونے والی بیان بازی نےاس معاملے کو مزید ہوا اس وقت دی جب کینیڈین وزیر اعظم نے اپنے دورۂ آسٹریلیا پر ان صوبائی انتخابات کے تناظر میں الیکشن کمیشن آف کینیڈا پر کڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ الیکشن کمیشن کو برقعہ پوش خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کی کیا ضرورت تھی۔اس کے جواب میں الیکشن کمیشن کے سربراہ مارک میرانڈ نے کہا کہ اس معاملے میں حکومت کوئی پابندی حائل نہیں کرسکتی کیونکہ جب پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن آف کینیڈا نے کچھ عرصہ قبل سفارشات طلب کی تھی تو اس وقت پارلیمنٹ نے کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی۔

نقاب اسلامی ہے؟
 کینیڈا سے مسلم کینیڈین کانگریس کی رہنما فرزانہ حسن نے کہا ہے کہ برقعہ اور نقاب کو اسلامی ملبوس کے طور پر پیش کرنا ایک ’بےہودہ مذاق‘ ہے۔ انکے بقول قرآن میں ایسا کوئی ذکر نہیں موجود جس میں یہ کہا گیا ہو کہ مسلم خواتین اپنے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپیں۔
اب اس معاملے پر مسلمان تنظیموں کا موقف ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اکثریت کا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں نے کھبی ایسی ضرورت کا اظہار ہی نہیں کیا تھا اور اب یہ مسئلہ پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن کے مابین غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ جبکہ کینیڈا میں روشن خیال مسلمانوں کی ترجمانی کی دعویدار ایک تنظیم مسلم کینیڈین کانگریس نے الیکشن کمیشن کی سخت مذمت کی ہے اور نقاب پوش خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کمشنر مارک میرانڈ نے باپردہ مسلم خواتین کی شناخت کے مسئلے پر کسی قسم کے حکومتی دباؤ اور پارلیمنٹ کمیٹی کا مشورہ ماننے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا ہے کہ کینیڈا کی مسلمان شہری خواتین پردے میں رہتے ہوئے ووٹ ڈال سکتی ہیں کیونکہ کینیڈا میں انتخابی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔

ان قوانین کے مطابق ووٹر اپنی شناخت باتصویر سرکاری دستاویزات پیش کر کے کر سکتا ہے اور اگر اس کے پاس تصویری شناخت نہیں ہے تو پھر بھی وہ اپنے پتہ کی تصدیق کرتے ہوئے بیان حلفی اور ایک ضامن کے حلفی بیان دینے پر ووٹ ڈالنے کا مجاز ہے۔ الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ قانون میں یہ گنجائش اس لئے رکھی گئی ہے کہ کوئی بھی شہری ووٹ کے حق سے محروم نہ رہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم سمیت دیگر سیاست دان الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ باپردہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکے مگر الیکشن کمیشن کسی بھی اقلیت کے ساتھ ایسا سلوک کرنا غیرقانونی قرار دیتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فیصلے کے لئے پارلیمنٹ قوانین کی تبدیلی کا حق رکھتی ہے۔

مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی والے صوبےاونٹاریو کے پریمئیر ڈالٹن مگنٹی کی ترجمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے ہفتے منعقد ہونے والےان انتخابات میں مسلمان پردہ دار خواتین کے نقاب اٹھانے کی شرط پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا اور انہیں برقعے اور نقاب کے ساتھ ہی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی مکمل اجازت ہے۔

کینیڈا میں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ کثرت میں ہیں
اس کے علاوہ پریمئیر نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اونٹاریو کے انتخابات میں انکے لئے نقاب یا پردہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور انہیں کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی وہ یہ شرط رکھیں گے کہ خواتین اپنے نقاب الٹ کر چہرہ دکھائیں۔ ڈالٹن مگنٹی نے اپنے اس انتہائی جرات مندانہ اعلان میں کہا کہ قانون میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جو کہ مسلم خواتین کو بے نقاب کرنے کی بات کرتی ہو، شناخت کے لئے متبادل دستاویزات بھی قابل قبول ہیں۔ ڈالٹن مگنٹی کا تعلق کینیڈا کی لبرل پارٹی سے ہے۔

جبکہ موجودہ وزیراعظم اسٹیفن ہارپر کا تعلق کنزرویٹو حکمرا ن جماعت سے ہے جنہو ں نے نقاب پہن کر ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے پر شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ قانون کی اس طرح کھلم کھلا مخالفت پارلیمنٹ کے اس قانون کی توہین ہے جس کے تحت ووٹرز کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ووٹ ڈالتے وقت اپنی شناخت کے لئے تصویری دستاویز پیش کریں۔

اس قانون میں انتخابی افسر پر لازم ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کرے کہ وہ ہر ووٹر کاتصویری شناختی کارڈ اور اسکے چہرے سے مطابقت کرتا ہے جسکے بعد ہی اسے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔ ایک موقف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جو خواتین برقعہ اور نقاب اتارنا نہیں چاہتیں انہیں یہ سہولت دی جائے کہ وہ ایک حلف نامہ جمع کروا کے یہ تصدیق کر واسکتی ہیں کہ وہی مذکورہ خاتون ہیں جس کی فوٹو آئی ڈی فراہم کی جا رہی ہے۔

تاہم وزیر اعظم اس بات کی بھی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون پر پوری طرح سے عمل کیا جانا چاہیے۔ صوبے اونٹاریو کی کنزرویٹو پارٹی کے رہنما جان ٹوری کا موقف ہے کہ انتخابی عملے کے معاملات میں سیاستدانوں کو دخل اندازی نہیں کرنا چاہیے اور انہیں ان کا کام قانون کے مطابق انجام دینے کی اجازت ہونی چاہیے اور اگر اونٹاریو الیکشن کا قانون یہ کہتا ہے کہ مسلم خواتین چہرہ دکھائیں تو انہیں دکھانا چاہیے۔

انتخابی افسر پر لازم
 اس قانون میں انتخابی افسر پر لازم ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کرے کہ وہ ہر ووٹر کاتصویری شناختی کارڈ اور اسکے چہرے سے مطابقت کرتا ہے جسکے بعد ہی اسے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔ ایک موقف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جو خواتین برقعہ اور نقاب اتارنا نہیں چاہتیں انہیں یہ سہولت دی جائے کہ وہ ایک حلف نامہ جمع کروا کے یہ تصدیق کر واسکتی ہیں کہ وہی مذکورہ خاتون ہیں جس کی فوٹو آئی ڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
فرانسیسی صوبے سے تعلق رکھنے والے لبرل پارٹی کےمرکزی رہنما اسٹیفن ڈیان نےاس مسئلے کا یہ حل تجویز کیا ہے کہ پردہ کرنے والی خواتین کی سہولت کے لئے پولنگ اسٹیشنز پر خواتین عملہ تعینات کیا جائے جو کہ خواتین کی شناخت چیک کر سکیں، اسطرح قانون پر بھی عمل درآمد ہو جائے گا اور مسلم خواتین کا مذہبی حق بھی پامال نہیں ہوگا۔

این ڈی پی یعنی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ہاورڈ ہیمپٹن نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ الیکشن کا عملہ ہر طرح کے فراڈ سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور وہ صاف اور شفاف طریقۂ کار اپنائے گا جس سے کہ انتخابی عمل کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ رہے۔

کینیڈا سے مسلم کینیڈین کانگریس کی رہنما فرزانہ حسن نے کہا ہے کہ برقعہ اور نقاب کو اسلامی ملبوس کے طور پر پیش کرنا ایک ’بےہودہ مذاق‘ ہے۔ انکے بقول قرآن میں ایسا کوئی ذکر نہیں موجود جس میں یہ کہا گیا ہو کہ مسلم خواتین اپنے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سعودی معاشرے کی ثقافت ضرور ہے لیکن اسے اسلامی قانون کے طور پر پیش کرنا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل صاف و شفاف بنانے کے لئے جو بھی ضروری قوائد و ضوابط ہیں ان پر عمل کیا جانا چاہیے۔

کینیڈین کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ووٹ ڈالتے ہوئے چہرہ دکھانے کی شرط کا اطلاق مسلمان عورتوں کی ایک چھوٹی تعداد پر ہوگا۔

فلا گڑیاباپردہ ’فلا‘
باربی کی بجائے اب پردے والی گڑیا زیادہ مقبول
فسادات کی وارننگ
برطانیہ میں خلیج پیدا ہورہی ہے: ٹریور فلِپس
نقاب، پابندی درست
برطانوی طالبہ نقاب کا مقدمہ ہار گئی۔
نقاببرقع پر پابندی
ھالینڈ میں برقع پابندی پرمسلم خواتین کی تنقید
نقاب کیا ہے؟سوال تو یہ ہے کہ
بہن عمرانہ نقاب کیوں پہنتی ہیں؟
ایک نئی رپورٹ
برطانوی مسلم خواتین فعال کردار ادا کریں
نقابمصری عدالت
نقاب پہننا شخصی اور مذہبی آزادی کا معاملہ ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد