برطانوی معاشرے میں مسلم خواتین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں خواتین کو درپیش مشکلات کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلم خواتین کو معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ رپورٹ برطانوی حکومت کے تعاون تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مسلمان مردوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مسلم خواتین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے ان کی مدد کریں تاکہ وہ معاشرے اہم مقام حاصل کر سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لندن میں سات جولائی کو ہونے والے بم دھماکوں کے بعد برطانوی مسلمان کمیونٹی حکومت کی توجہ کا مرکز ہے اور سب سے زیادہ توجہ معاشرے میں مسلم خواتین کے کردار پر دی جا رہی ہے۔ یہ رپورٹ ایک غیر سرکاری ادارے ’مسلم ویمن نیٹ ورک‘ نے تیار کی ہے۔ بی بی سی کے مذہبی امور کے نامہ نگار کا اس رپورٹ کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ رپورٹ معاشرے کے بااثر لوگوں کے لیے کچھ پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ مسلمان مردوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا زیادہ صرف کرتے ہیں لیکن انہیں چاہیے کہ مسلم خواتین کے لیے اپنا زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمان مردوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کے بارے میں اپنی معلومات کو بہتر بنائیں۔ وہ اکثر خواتین کو ان کے حقوق نہیں دیتے جس کی وجہ مزہب نہیں بلکہ ان کی تہذیب و ثقافت ہے جیسا کہ برطانیہ میں رہائش پزیر زیادہ تر مسلمانوں کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔
رپورٹ کے لیے کئی سوالات کے جواب میں زیادہ تر خواتین نے بتایا کہ تحفظ ان کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور سات جولائی کے حملوں کے بعد وہ اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ اس تحقیق میں مسلمان خواتین کے اسلامی لباس پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ خواتین میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ کیا انہیں سکارف یا نقاب لینا چاہیے یا نہیں۔ لیکن وہ اس بات پر متفق تھیں کہ انہیں انکی مرضی کے مطابق لباس پہننے کی آزادی ہونی چاہیے اور معاشرے میں اس کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ یہ رپورٹ ایک سال کی تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے اور اس کو مرتب کرنے لیے بہت سی خواتین سے بات چیت کی گئی ہے۔ اس کا مقصد خواتین کے متعلق دقیانوسی خیالات رکھنے والے لوگوں کو چیلنج کرنا ہے تاکہ ان امور پر کھلی بحث ہو سکے۔ | اسی بارے میں برطانیہ: ساس کے خلاف بہو کی جیت 24 July, 2006 | آس پاس حجاب کے قانون کی کم خلاف ورزی 02 September, 2004 | آس پاس ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس تیونس: حجاب پر پابندی نافذ16 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||