برطانیہ: ساس کے خلاف بہو کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک ساس کو اپنی بہو کو مار پیٹ سے پہنچنے والے نقصانات کے ہرجانے کے طور پر پینتیس ہزار پونڈ کی رقم ادا کرنا ہوگی۔ نوٹنگھم کی ایک عدالت کو بتایا گیا کہ جینا ستویر سنگھ نے کئی ماہ تک اپنی ساس دلبر کور بھاکر کے ظلم برداشت کیئے۔ مسز سنگھ جن کا تعلق نوٹنگھم شائر کے علاقے ’بنی‘ سے ہے شادی کے بعد اپنی ساس کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ لندن میں اپنے شوہر اور گھر والوں کے پاس منتقل ہونے کے محض چار ماہ بعد ہی انہیں طلاق دے دی گئی۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ گھر میں کئی گھنٹے کام کاج سے مسز سنگھ تھک کر چُور ہو جاتی تھیں۔ ان کے کاموں میں بڑے سے لے کر تمام چھوٹے موٹے کام جیسے ٹائلٹ کو بغیر برش کے صاف کرنا بھی شامل تھے۔
انہیں ہفتے میں صرف ایک ٹیلی فون کال کرنے کی اجازت تھی۔ اس کے علاوہ انہیں اکیلے گھر سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ مسز سنگھ کو اپنے بال یا کیس بھی کٹوانے پر مجبور کیا گیا جو سکھ دھرم میں منع ہے۔ کارروائی کے بعد مسز سنگھ کے وکیل جان روزلے نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی مشکل کیس تھا اور ایسے مقدمے کے لیئے مسز سنگھ کی بہادری قابل تعریف ہے جو اب اپنی نئی زندگی شروع کرنے جا رہی ہیں۔ بہت سی خواتین ایسے مسائل کا شکار ہیں مگر وہ ایسے واقعات سامنے نہیں لاتیں۔ وکیل جان کا کہنا تھا کہ ان کی موکلہ کو اپنے عقائد پر پختہ یقین تھا اور انہیں اپنے خاندان کی بھرپور مدد بھی حاصل تھی اور انہی وجوہات کی وجہ سے انہوں نے اپنی سسرال کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ یہ مقدمہ انیس سو ستاون کے کسی کو ہراساں کرنے سے متعلق قانون کے تحت چلایا گیا اور خیال ہے کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت ایک خاندان کے کسی فرد نے اپنے نقصانات کے ازالے کے لیئے کسی دوسرے کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہو۔ | اسی بارے میں جب کوئی احساس ہی نہ رہے 28 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||