دو روپے کے سکّے کا مذہب کیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، وشوہندو پریشد اور شیو سینا نے دو روپے کے سکّے پر جاری ایک نئی علامت کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ نئے سکّے پر’قومی یکجہتی‘ کا نشان عیسائی مذہب کی علامت ’صلیب‘ کا ہے اور نئے سکّے پر اسے عسائیت کی تبلیغ کے لیے جاری کیا گيا ہے۔ لیکن ریزرو بینک آف انڈیا نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ بینک کی طرف جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے: ’یہ قومی یکجہتی کی علامت کا ایک انوکھا اظہار ہے جو ملک کی اہم صفت ہے۔‘ بینک کے مطابق اس علامت کو ایک ہی جسم سے نکلنے والے چار سروں کے ایسے نشان کی طور پر دیکھنا چاہیے جیسے کہ ملک کی چاروں سمتوں کے مختلف لوگ ایک متحد قوم ہیں۔ وی ایچ پی کے صدر اشوک شنگھل نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو خوش کرنے کے لیے طرح طرح کے قدم اٹھاتی ہے اور دو روپے کے سکّے پر صلیب کا نشان بھی اسی کوشش کا نتیجہ ہے۔’اس سے غلط پیغام پہنچ رہا ہے اور اس پر فوری پابندی لگا دینی چاہیے۔‘
وی ایچ پی کے ایک لیڈر ہنس داس جی مہراج کا کہنا تھا کہ پوپ نے یہ بات پہلے ہی کہی تھی کہ وہ بھارت کے ہر شخص کے ہاتھ میں کراس پکڑا دیں گے اور اس سکّہ سے اس کی شروعات ہوگئی ہے۔’صلیب کا نشان آیا کیسے، یہ ہندوؤں کے ساتھ ناانصافی ہے اسے فورا ہٹانا چاہیے، ہم اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے۔‘ شیوسینا کا کہنا ہے کہ اس نے سکّہ کو بغور دیکھا ہے اور بقول اس کے مذکورہ نشان قومی یکجہتی کی علامت نہیں بلکہ صلیب کا نشان لگتا ہے۔ دلی میں پارٹی کے رہنما جے بھگوان گویل کا کہنا تھا: ’ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عیسائیت کی تبلیغ کے لیے ایسا کیا گیا ہے، اگر قومی یکجہتی کی علامت ہی بنانی تھی تو ’ اوم‘ ، گنیش یا ’سواستک ‘ کا نشان بنانا چاہیے تھا جس میں سب کچھ شامل ہے۔‘ آر ایس ایس کے اخبار ’پنچ جنیہ‘ میں بھی سکّہ پر بنے متنازعہ نشان پر سخت نکتہ چينی کی گئی ہے۔ کانگریس کے رہنما اور مرکزی وزیر کپل سبّل کا کہنا تھا کہ یہ تنظیمیں ہمیشہ ایسے اشوز کی تلاش میں رہتی ہیں جس سے سماج کو تقسیم کیا جا سکے۔ ’اگر احتجاج کرنا ہے تو کریں ان کو کون روک سکتا ہے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ کسی طرح فرقہ وارانہ ماحول خراب کریں۔ وہ یہی کرتے ہیں اور کرتے بھی رہیں گے۔‘ عام طور پر لوگ بھی ہندو نظریاتی تنظیموں کے اس موقف سے اتفاق نہیں رکھتے۔ شیلا نے سکہ دیکھنے کے بعد کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ علامت کیا ہے۔ پرم جیت کا کہنا تھا کہ یہ سڑک کے چوک کی طرح لگتا ہے اور بقول ان کے عیسائی مذہب کی نشانی کے ساتھ ساتھ امریکہ کے جھنڈے پر بھی یہی نشان بنا ہے۔ نشانت کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی ہو کراس نہیں ہے۔ پرویز کے مطابق یہ فرقہ وارانہ ذہنیت کی اختراع ہے کیونکہ بعض لوگ تنازعہ کھڑا کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ منجو عیسائی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ کراس ہرگز نہیں ہے۔ ’دونوں میں بہت فرق ہے اور یہ قومی یکجہتی کا نشان لگتا ہے۔‘ بلدیو کہتے ہیں:’ہمیں سکہ دیکھ کر یہی خیال آتا ہے کہ اس سے کیا چیز خریدی جا سکتی ہے۔‘ دو روپے کے نئے سکے پر ایسا سیاسی تنازعہ پیدا ہوا ہے جس کی گونج پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں سنی جائے گی لیکن عوام کے لیے اس کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ اس سکہ سے کیا چیز خریدی جاسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں بھارت: ہڑتال سے زندگی متاثر29 September, 2005 | انڈیا بی جے پی و شیو سینا پر جرمانہ 16 September, 2005 | انڈیا ایودھیا حملہ: ملک گیر ہڑتال کی کال06 July, 2005 | انڈیا نندی گرام: ہڑتال سے زندگی مفلوج 16 March, 2007 | انڈیا رقم کی وصولی کا انوکھا طریقہ21 August, 2005 | انڈیا پانچ سو روپے میں براڈ بینڈ دستیاب18 December, 2004 | انڈیا آسام: ہڑتال سے زندگی متاثر 04 April, 2007 | انڈیا احتجاجی مظاہرے، زندگی متاثر06 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||