BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2009, 21:17 GMT 02:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران، چین کا خطے میں کردار چاہیے‘

آصف زرداری
’خطے کے تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں سے ہی دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے‘
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے علاقائی طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت ہے جس میں ایران اور چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی صدر احمدی نژاد کے ایلچی اور پٹرولیم کے وزیر غلام حسین نوزیری سے ملاقات میں کہی۔

اس سے پہلے سنیچر کو ایران کے صدر کے ایلچی نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی جس میں وزیر اعظم نے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کی درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران کے صدر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ۔

ایرانی صدر کے ایلچی نے سنیچر کے روز اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور انھیں ایران کے صدر کا خط پہنچایا۔ اس کے علاوہ ملاقات میں خطے کی صورتحال، غزہ پر اسرائیل کے حملے اور پاکستان اور ایران کے تعلقات پر بات چیت کی گئی ہے ۔

ایران سے مطالبہ
 وزیر اعرظم نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کو پچاس ہزار بیرل یومیہ تیل تین ماہ کی موخر ادئیگیوں کی بجائے ایک سال کی موخر ادائگیوں پر فراہم کرے۔ یاد رہے کہ ایران پہلے سے پاکستان کو یومیہ دس ہزار بیرل خام تیل ایک ماہ کی موخر ادائیگیوں پر فراہم کر رہا ہے
ایوان صدر سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلز کے مطابق صدر زرداری نے ایران کے خصوصی ایلچی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کہا ہے کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے علاقائی طریقۂ کار اپنانا ہوگا جس میں ایران اور چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔

صدر زرداری کے مطابق خطے کے تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں سے ہی دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

ملاقات میں ایران کے ایلچی نےکہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے جس کے لیے دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا جبکہ ایران دونوں ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن کے منصوبے کو جلد شروع کرنے کا خواہش مند بھی ہے۔

اس موقع پر ایران کے ایلچی نےصدر آصف زرداری کو ایران کے صدر کی جانب سے ایران کے دورے کی دعوت بھی دی ہے جسے انھوں نے قبول کر لیا۔

ایران کے ایلچی غلام حسین نوزیری نے صدر سے ہونے والی ملاقات میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں اور ناکہ بندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملوں سے خطے کے امن اور استحکام کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

صدر زرداری نے اسرائیل کے غزہ پر کیے جانے حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی برداری پر زور دیتا ہے کہ وہ فلسطین پر اسرائیل کی پر تشدد کارروائیوں کو روکنے کےلیے فوری اقدامات کریں اور مسئلہ فلسطین کا پر امن حل تلاش کیا جائے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایران سے درخواست کی کہ ایران پاکستان کو پچاس ہزار بیرل یومیہ تیل تین ماہ کی موخر ادئیگیوں کی بجائے ایک سال کی موخر ادائگیوں پر فراہم کرے۔ یاد رہے کہ ایران پہلے سے پاکستان کو یومیہ دس ہزار بیرل خام تیل ایک ماہ کی موخر ادائیگیوں پر فراہم کر رہا ہے۔

ایران کے خصوصی ایلچی نے وزیراعظم سے کہا کہ پاکستان اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ہونے والے اجلاس میں غزہ کا مسئلہ حل کرنے میں اہم اور موثر کردار ادا کرے۔

واضع رہے کہ چند روز قبل پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں جس کے مطابق ایران گوادر میں پاکستانی بندرگاہ کو ایک سو میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا جبکہ مزیدایک ہزار میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے لیے ابتدائی سروے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد