سری لنکن فوج کی پیش قدمی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں تامل باغیوں کے ہیڈ کواٹر کلونوچی پر قبضے کے ایک دن بعد سرکاری فوج کا کہنا ہے کہ وہ تامل باغیوں کے خلاف اپنی پیش قدمی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سری لنکا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کلونوچی پر قبضے کے بعد اب سرکاری فوجیں تامل باغیوں کے ایک اور مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے شہر ملیاتیوہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ملیاتیوہ کے لیے لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کلونوچی پر سرکاری فوجوں کا قبضہ تامل باغیوں کی ایک بڑی ناکامی ہے۔ کلونوچی تامل باغیوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا۔
سری لنکا کی فوجیں کئی ماہ سے کلونوچی کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔ کلونوچی گزشتہ ایک دہائی سے تامل باغیوں کے قبضے میں تھا۔ کلونوچی کے قبضے کے لیے لڑی جانے والے لڑائی میں فریقین نے ایک دوسرے کو شدید جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کیئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں ہو سکی ہے۔ سری لنکا کے صدرمہیندا راجہ پکشے نے گزشتہ روز فوجیوں کو اس کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں پوری قوم کی طرف سے ان فوجیوں کو خراج عقدیت پیش کرنا چاہیے جنہوں نے یہ تاریخی فتح حاصل کی ہے۔‘ سری لنکا کے صدر نےکہا ہے کہ فوج نے تامل علیحدگی پسندوں کے مرکز شمالی شہر کلونوچی پر قبضہ کرلیا ہے۔ صدر راجہ پکشے نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے تامل باغیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں اور عام شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے نکل جانے کی اجازت دے دیں۔ | اسی بارے میں سری لنکا بس حملہ، 26 ہلاک16 January, 2008 | آس پاس تامل باغیوں نے جہاز ڈبو دیا10 May, 2008 | آس پاس سری لنکا:52باغی اور15 فوجی ہلاک23 April, 2008 | آس پاس سری لنکا میں دھماکہ بیس ہلاک02 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||