BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2009, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تامل ’ہیڈکوارٹر‘ پر قبضے کا دعویٰ
سری لنکا کے صدر مہندا راجپکشے نے جارحانہ حکمت عملی اختیار کی ہے

سری لنکا کے صدر نےکہا ہے کہ فوج نے تامل علیحدگی پسندوں کے مرکز شمالی شہر کلونوچی پر قبضہ کرلیا ہے۔

صدر مہیندا راجہ پکشے نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے تامل باغیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں اور عام شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے نکل جانے کی اجازت دے دیں۔

اِسی دوران دارالحکومت کولمبو سے تامل باغیوں کی جانب سے کئے جانے والے ایک ممکنہ خودکش حملے کی بھی اطلاعات ملی ہے۔

ٹیلی ویژن پر صدر مہیندا راجہ پکشے کے اس اعلان کے فوراً بعد دارالحکومت کولمبو میں کئی مقامات پر لوگوں کو پٹاخے چلاتے ہوئے خوشیاں مناتے دیکھا گیا۔

صدر راجہ پکشے نے اپنے خطاب میں کہا ’یہ فتح ہمارے پورے سماج کی فتح ہے۔ ہم نے دہشت گردوں کو ان کی جنگ میں شکست دے دی ہے۔ یہ دہشت گرد ہمارے لوگوں کے خون اور زندگیوں سے کھیل رہے تھے۔ یہ ایک ایسے گروہ کے خلاف فتح ہے جو ہمیں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہ رہے تھے۔

ایک تامل ویب سائٹ نے اِس حکومتی دعوے کی تصدیق کی ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ حکومتی فوج ایک خالی اور ویران شہر میں داخل ہوئی ہے کیونکہ تامل ہیڈکوارٹر کو شمال مشرق کی جانب منتقل کردیا گیا ہے۔

صدر راجہ پکشے کے ٹیلی ویژن پر خطاب کے کچھ ہی دیر بعد دارالحکومت کولمبو میں فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب ایک طاقت ور دھماکے کی آواز سنی گئی۔ جو کہ ایک خودکش بم حملہ تھا پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں فضائیہ کے دو اہلکار ہلاک اور تیس کے قریب دیگر افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

فوجی حکام نے اس حملے کا الزام تامل باغیوں پر لگایا ہے۔

کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کلونوچی پر قبضہ حکومتی فوج کی ایک بڑی کامیابی ہے جو طویل عرصے سے ایک الگ ریاست کا مطالبہ کرتے تامل علیحدگی پسندوں کی تحریک کو کچلنے کی کوشش کرتی آئی ہے۔

جبکہ کلو نوچی پر سری لنکا کی فوج کا قبضہ تامل باغیوں کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہے کیونکہ دس سال پہلے کلونوچی پر قبضے کے بعد سے وہ اس شہر کو سری لنکا کی تامل اقلیت کے لئے ایک الگ ریاست کا دارالحکومت کہتے آئے ہیں۔ یہاں ان کی اپنی عدالتوں ایک پولیس ہیڈکوارٹر کے علاوہ ایک بینک بھی تھا۔

حال ہی میں تامل علیحدگی پسندوں کے سیاسی شعبے کے سربراہ بی ندیسین نے کہا تھا کہ اگر کلونوچی تامل باغیوں کے ہاتھ سے نکل بھی جائے تو وہ بدستور مسلح جدوجہد جاری رکھ سکتے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی حالیہ کامیابیوں کے باوجود آنے والے دنوں میں شدید جھڑپیں ہوسکتی ہیں۔ اِس کے علاوہ شمال میں تامل باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کی حفاظت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ تامل ٹائیگر عام شہروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے اور انہیں زبردستی حکومتی فوج سے لڑنے پر مجبور کرنے کے کے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

تامل باغیوں کے پاس کلونوچی کے مشرق میں سمندر تک پھیلے ایک بڑے علاقے پر قبضہ ہے لیکن اُس سمت سے بھی تامل باغیوں کو حکومتی فوج کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔

سری لنکا کی فوج کئی مہینوں سے کِلو نوچی کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی۔ اور اِس دوران فوج کو تامل باغیوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ تامل علیحدگی پسند گزشتہ قریب پچیس برس سے اپنے لئے ایک علیحدہ ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کررہے ہیں اور اِس تحریک کےدوران دونوں جانب سے ستر ہزار سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں۔

اسی بارے میں
سری لنکا بس حملہ، 26 ہلاک
16 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد