BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لوڈشیڈنگ، پرتشدد مظاہرے جاری

لوڈشیڈنگ احتجاج
مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دیں
پاکستان میں ایک طویل عرصے جاری بجلی کے بحران نے حالیہ دنوں میں انتہائی خراب صورتحال اختیار کر لی ہے اور پنجاب کے مختلف شہروں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف سنیچر کو بھی احتجاجی مظاہرے کیےگئے ہیں۔

پاکستان کے صنعتی شہر فیصل آباد میں لوڈشیڈنگ کے خلاف تاجر تنظیموں کے فیصلے کی روشنی میں شہر بھر کے بازار بند رہے جبکہ مختلف مقامات پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے۔

مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دیں اور پتھراؤ کیا۔مشتعل افراد نےگلستان کالونی میں شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے ’فیسکو‘ کے دفتر پر حملہ کیا اور وہاں موجود ریکارڈ کو آگ لگا دی۔

مظاہرین سرگودھا روڈ پر واقع ایک بینک میں بھی گھس گئے اور توڑ پھوڑ کی جبکہ ملت روڈ پر ایک گاڑی اور دو موٹر سائیکلوں کو بھی جلا دیا گیا۔ پولیس نے پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ پولیس نے بعض علاقوں میں مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی جبکہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

پاور لومز ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید رامے کے مطابق فیسکو انتظامیہ نے ان سے مذاکرات کیے ہیں اور چیئرمین فیسکو نے انہیں بتایا ہے کہ انہیں سولہ گھنٹے بجلی کی فراہمی کی جاسکتی ہے جس پر فیسکو انتظامیہ کی بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ آٹھ، آٹھ گھنٹوں کی دو شفٹوں میں بغیر کسی تعطل کے بجلی فراہم کی جائے۔

پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے مظاہرین کوگرفتار کر لیا

فیصل آباد کے علاوہ لاہور میں مختلف مقامات پر شہریوں نے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ پرنٹنگ پریس میں کام کرنے والے کارکنوں نے شہر کے وسط میں لکشمی چوک میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کیا اور مظاہرین نے سڑک پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس کے علاوہ گوجرانوالہ اور سرگودھا میں بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

پیپکو حکام کے مطابق ملک کو اس وقت پانچ ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ کمی کی بڑی وجہ ملک میں قدرتی گیس اور تیل کی قلت کے علاوہ سالانہ بھل صفائی کی وجہ سے ڈیموں سے پانی کی کم مقدار چھوڑنا بھی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کے لیے تیل اور قدرتی گیس کی کمی بھی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے اواخر تک جب ڈیموں سے پانی کا اخراج شروع ہو جائے گا حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ حکومت نے گیس کے گھریلو صارفین کے لیے لوشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں
پاک ایران: تعاون پر متفق
31 December, 2008 | پاکستان
محرم: 50 سے زائد اضلاع حساس
27 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد